متحدہ عرب امارات

ابوظہبی میں کم آمدنی والے افراد کے لیے سستی رہائش پر غور، غیرقانونی پارٹیشنز کے خلاف مؤثر حکمت عملی

خلیج اردو
ابوظہبی: ابوظہبی میں حکام نے غیرقانونی طور پر تقسیم شدہ رہائشی یونٹس اور حد سے زیادہ گنجان آباد ولاز کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جامع اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ دبئی میں حالیہ کریک ڈاؤن کے بعد ابوظہبی بھی اس مسئلے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے، جہاں محکمہ بلدیات و ٹرانسپورٹ (ڈی ایم ٹی) نے سستی رہائش کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق، کم آمدنی والے مکینوں کے لیے پرانی عمارتوں کی مرمت، یا موجودہ رہائشی یونٹس کو باقاعدہ طور پر مشترکہ رہائش کی اجازت دینے جیسے طویل المدتی حل زیر غور ہیں، تاکہ غیر رسمی یا غیر قانونی رہائش کے رجحان کو ختم کیا جا سکے۔

ڈی ایم ٹی کے مشیر محمد المعزمی نے کہا کہ جیسے جیسے ابوظہبی کی آبادی بڑھ رہی ہے، مناسب اور سستی رہائش کی فراہمی ایک اہم ترجیح بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم مختلف آمدنی والے طبقات، خصوصاً کم اور درمیانے درجے کے مکینوں کے لیے رہائش کے متنوع آپشنز متعارف کرا رہے ہیں۔”

حکومت کے اہم اقدامات میں "ویلیو ہاؤسنگ پروگرام” بھی شامل ہے، جو بہتر رابطہ رکھنے والی کمیونٹیز میں اسٹوڈیوز سے لے کر بڑے اپارٹمنٹس تک مناسب قیمت والی رہائش گاہوں کی تعمیر کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد 2040 تک ابوظہبی کی متوقع دو ملین سے زائد آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کرنا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں حکام کی توجہ خاص طور پر ان علاقوں پر مرکوز ہے جہاں پرانے ولاز اور اپارٹمنٹس میں غیرقانونی کرایہ داری بڑھتی جا رہی ہے۔ غیر رسمی معاہدے، جو ’توثیق‘ نظام میں رجسٹر نہیں، غیرقانونی سمجھے جا رہے ہیں۔ بلدیہ کی جانب سے عوامی آگاہی مہم "آپ کا گھر، آپ کی ذمے داری” کے تحت مالکان اور کرایہ داروں کو باضابطہ معاہدے کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے، اور خلاف ورزی پر جرمانے اور رجسٹریشن کی سہولیات کی معطلی جیسے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

محمد المعزمی نے مزید بتایا کہ محکمہ نئی تعمیرات کے ساتھ ساتھ پرانی عمارتوں کی قانونی حیثیت کو باقاعدہ بنانے اور انہیں محفوظ مشترکہ رہائش کے طور پر استعمال کرنے کی گنجائش بھی پیدا کر رہا ہے، بشرطیکہ وہ مقررہ حفاظتی اور انتظامی معیارات پر پورا اتریں۔

دبئی کے برعکس جہاں حالیہ دنوں میں سخت کارروائیاں دیکھنے میں آئی ہیں، ابوظہبی میں یہ معاملات انفرادی بنیادوں پر قانون اور سماجی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے نمٹائے جا رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ نجی ڈویلپرز کے ساتھ اشتراک سے سستی رہائش اور کارکنوں کی رہائش کے منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی کوششیں بھی جاری ہیں، تاکہ غیر رسمی یا غیر قانونی رہائشی طریقوں کی ضرورت کم ہو سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button