متحدہ عرب امارات

حقیقت جانیں: کیا 2 اگست کو متحدہ عرب امارات میں صدی کا طویل ترین سورج گرہن دیکھنے کو ملے گا؟

خلیج اردو
دبئی: سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں ایک خبر تیزی سے وائرل ہوئی کہ 2 اگست کو متحدہ عرب امارات میں صدی کا طویل ترین سورج گرہن دیکھنے کو ملے گا۔ تاہم، ماہرین فلکیات نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دعویٰ مکمل طور پر غلط نہیں مگر اس میں ایک اہم غلطی موجود ہے: مذکورہ سورج گرہن اگلے ماہ نہیں بلکہ 2 اگست 2027 کو ہو گا۔

دبئی ایسٹرونومی گروپ (DAG) کی آپریشنز مینیجر خدیجہ الحریری کے مطابق، یہ سورج گرہن صدی کا طویل ترین مکمل سورج گرہن ہو گا، جو 6 منٹ 23 سیکنڈ تک جاری رہے گا۔ یہ 1991 کے بعد اب تک کا سب سے طویل سورج گرہن ہو گا اور 2114 تک ایسا کوئی اور گرہن نہیں آئے گا۔

تاہم، متحدہ عرب امارات میں یہ مکمل گرہن نہیں بلکہ جزوی سورج گرہن ہو گا۔ دبئی میں چاند سورج کا تقریباً 53 فیصد حصہ ڈھانپے گا، جس سے آسمان پر ہلال نما منظر بنے گا۔ دیگر امارات میں سورج کی 50 سے 57 فیصد تک ڈھکن ہونے کی توقع ہے۔

مکمل سورج گرہن کی راہ
یہ نایاب مکمل سورج گرہن جنوبی اسپین، مراکش، الجزائر، تیونس، لیبیا، مصر، جنوبی سعودی عرب اور یمن سے گزرتا ہوا دکھائی دے گا، جہاں سورج مکمل طور پر چھپ جائے گا اور سورج کا شاندار "کرونا” واضح طور پر نظر آئے گا۔

متحدہ عرب امارات میں کب مکمل سورج گرہن ہو گا؟
خدیجہ الحریری کے مطابق، متحدہ عرب امارات میں آخری بار جزوی سورج گرہن 25 اکتوبر 2022 کو دیکھا گیا تھا۔ اگلا مکمل سورج گرہن یہاں 3 ستمبر 2081 کو ہو گا، یعنی شہریوں کو مکمل گرہن دیکھنے کے لیے 50 سال سے زائد انتظار کرنا پڑے گا۔

احتیاطی تدابیر:
ماہرین نے انتباہ دیا ہے کہ سورج گرہن کو براہ راست دیکھنا خطرناک ہو سکتا ہے اور مستقل بینائی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

  • ہمیشہ ISO 12312-2 سرٹیفائیڈ سولر ویونگ گلاسز استعمال کریں۔

  • سادہ دھوپ کے چشمے ہرگز استعمال نہ کریں۔

  • دوربین، کیمرہ یا ٹیلی اسکوپ کے لیے سولر فلٹرز کا استعمال ضروری ہے۔

  • سورج کو بالواسطہ دیکھنے کے لیے پن ہول پروجیکٹر یا دیگر پروجیکشن طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

براہ راست نشریات اور عوامی پروگرام
دبئی ایسٹرونومی گروپ 2 اگست 2027 کے روز عوام کے لیے ایک خاص پروگرام منعقد کرے گا جس میں شمسی دوربینیں، ماہرین کی رہنمائی اور تعلیمی سرگرمیاں شامل ہوں گی۔ اس کے علاوہ DAG کی جانب سے مختلف ممالک سے براہ راست نشریات بھی کی جائیں گی تاکہ لوگ محفوظ طریقے سے اس نایاب منظر کا مشاہدہ کر سکیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button