متحدہ عرب امارات

  اابوظہبی: شعبہ صحت کے چیئرمین شیخ عبداللہ نے کورونا ویکسین لگوا کر ویکسین تجربات کے تیسرے مرحلے آغاز کر دیا

متحدہ عرب امارات کی متنوع آبادی کی وجہ سے فیز تھری تجربات کے لیے اس کا انتخاب کیا گیا ہے

 

تفصیلات کےمطابق عالمی ادارہ صحت کی فہرست میں شامل کورونا وائرس ویکسین کا فیز تھری کلینکل ٹرائل ابو ظہبی میں شروع ہوگیا۔  شعبہ صحت کے چیئر مین شیخ عبداللہ بن محمد الحمد تیسرے مرحلے میں ویکیسن لگوانے والے پہلے رضاکار بن  گئے۔  شیخ عبداللہ کے بعد قائم مقام سیکرٹری کو تجرباتی طور پر ویکسین لگائی جائی گی۔

دونوں بڑی شخصیات کا سب سے پہلے ویکسین لگوانا ابو ظہبی کے عالمی مرض کے علاج کی تلاش کے عزم کے اظہار ہے۔

ویکسین کا ٹرائل ابوظہبی کی کمپنی جی 42 اور چینی دواساز کمپنی  سینوفارم کے درمیان تعاون کی بدولت شروع ہوا ہے۔  او اس ٹرائل کو ابوظہبی کے محکمہ صحت اور وزارت صحت  کے زیر انتظام شروع کیا گیا ہے۔  ویکیسین کے تجربات متحدہ عرب امارات کی قیادت کے عالی وبا پر مشترکہ عالمی کوششوں سے قابو پانے کے وژن سے متاثر ہے۔

اس پارٹنرشپ کا مقصد  ابو ظہبی میں ویکسین کی پیداور کی بدولت یو اے ای کے رہائشیوں کو ویکسین جلد فراہم کرنا ہے۔

تیسرے مرحلے کے تجربات ابوظہبی اور العین کے رہائشی 18 سے 60 سالہ رضاکاروں پر کیے جائیں گئے۔ اور یہ تجربات تین سے چھ ماہ تک جاری رہیں گئے۔  اس سے پہلے فیز 1 اور فیز 2 کے تجربات چین میں کیے گئے ہیں۔ جن کے بہترین نتائج کو دیکھتے ہوئے تیسرے مرحلے کے تجربات متحدہ عرب امارات میں شروع کیے گئے ہیں۔

ان تجربات کے لیے متحدہ عرب امارات کا انتخاب کیوں کیا گیا؟

متحدہ عرب امارات میں 200  کے قریب قومیتیں آباد ہیں۔ لہذا متحدہ عرب امارات کی متنوع آبادی کی وجہ سے فیز تھری تجربات کے لیے اس کا انتخاب کیا گیا ہے۔ تاکہ متعدد نسلوں پر ویکسین کا تجربہ کیا جائے جس سے ویکسین  کے عالمی ساتھ پر استعمال کے لیے موزوں ہے یا غیر موزوں ہونے کا پتہ چل پائے گا۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button