
تفصیلات کےمطابق عالمی ادارہ صحت کی فہرست میں شامل کورونا وائرس ویکسین کا فیز تھری کلینکل ٹرائل ابو ظہبی میں شروع ہوگیا۔ شعبہ صحت کے چیئر مین شیخ عبداللہ بن محمد الحمد تیسرے مرحلے میں ویکیسن لگوانے والے پہلے رضاکار بن گئے۔ شیخ عبداللہ کے بعد قائم مقام سیکرٹری کو تجرباتی طور پر ویکسین لگائی جائی گی۔
دونوں بڑی شخصیات کا سب سے پہلے ویکسین لگوانا ابو ظہبی کے عالمی مرض کے علاج کی تلاش کے عزم کے اظہار ہے۔
عبد الله بن محمد آل حامد، رئيس دائرة الصحة بأبوظبي، أول متطوع يشارك في التجارب السريرية التي تجري في #أبوظبي للمرحلة الثالثة من اللقاح غير النشط لوباء كوفيد-19، يليه الدكتور جمال الكعبي، وكيل دائرة الصحة بالإنابة، وهو الأمر الذي يعكس التزام الإمارة بإيجاد علاج عالمي للوباء. pic.twitter.com/TX6AJPxJh3
— مكتب أبوظبي الإعلامي (@ADMediaOffice) July 16, 2020
ویکسین کا ٹرائل ابوظہبی کی کمپنی جی 42 اور چینی دواساز کمپنی سینوفارم کے درمیان تعاون کی بدولت شروع ہوا ہے۔ او اس ٹرائل کو ابوظہبی کے محکمہ صحت اور وزارت صحت کے زیر انتظام شروع کیا گیا ہے۔ ویکیسین کے تجربات متحدہ عرب امارات کی قیادت کے عالی وبا پر مشترکہ عالمی کوششوں سے قابو پانے کے وژن سے متاثر ہے۔
اس پارٹنرشپ کا مقصد ابو ظہبی میں ویکسین کی پیداور کی بدولت یو اے ای کے رہائشیوں کو ویکسین جلد فراہم کرنا ہے۔
تیسرے مرحلے کے تجربات ابوظہبی اور العین کے رہائشی 18 سے 60 سالہ رضاکاروں پر کیے جائیں گئے۔ اور یہ تجربات تین سے چھ ماہ تک جاری رہیں گئے۔ اس سے پہلے فیز 1 اور فیز 2 کے تجربات چین میں کیے گئے ہیں۔ جن کے بہترین نتائج کو دیکھتے ہوئے تیسرے مرحلے کے تجربات متحدہ عرب امارات میں شروع کیے گئے ہیں۔
ان تجربات کے لیے متحدہ عرب امارات کا انتخاب کیوں کیا گیا؟
متحدہ عرب امارات میں 200 کے قریب قومیتیں آباد ہیں۔ لہذا متحدہ عرب امارات کی متنوع آبادی کی وجہ سے فیز تھری تجربات کے لیے اس کا انتخاب کیا گیا ہے۔ تاکہ متعدد نسلوں پر ویکسین کا تجربہ کیا جائے جس سے ویکسین کے عالمی ساتھ پر استعمال کے لیے موزوں ہے یا غیر موزوں ہونے کا پتہ چل پائے گا۔
The world’s first @WHO-listed phase III clinical trial of the Covid-19 inactivated vaccine has begun in #AbuDhabi, with @DoHSocial Chairman, Sheikh Abdullah bin Mohammed Al Hamed the 1st to participate in the trial, followed by Acting Undersecretary Dr. Jamal Al Kaabi. pic.twitter.com/gEIFgcSFHC
— مكتب أبوظبي الإعلامي (@admediaoffice) July 16, 2020
Source : Khaleej Times







