متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات آنے والے افراد کو قرنطینہ میں رہنا ہوگا، خلاف ورزی کی صورت میں کتنا جرمانہ ہوگا؟

مسافروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ جس ملک میں سفر کرنا چاہتے ہیں کرونا سے متعلق وہاں کہ قوانین جان لیں

 

خلیج اردو آن لائن: یو اے ای واپس آنے والے رہائشیوں کو قرنطینہ کے لیے بنائے گے شرائط و ضوابط پر عمل کرنا ہوگا، بصورت دیگر 50 ہزار درہم جرمانہ بھگتنا پڑے گا۔

تفصیلات کےمطابق یکم اگست سے یو اے ای آنے اور جانے کے لیے سفری پابندیاں ختم ہونے پر امارات، اتحاد، ایئر عرابیہ  اور فلائی دبئی 60 مختلف مقامات کے لیے پروازیں شروع کر چکی ہیں۔ تاہم مسافروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ جس ملک میں سفر کرنا چاہتے ہیں کرونا سے متعلق وہاں کہ قوانین جان لیں۔

یو اے ای آنے والے مسافروں کو 14 دن کے لیے قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنےوالے کو 50 ہزار درہم جرمانے ادا کرنا پڑے گا۔  این سی ایم اے ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے واضح کیا گیا کہ کے یو اے ای آنے والے مسافروں کو الحسن ایپ ڈاؤن لوڈ کرنا ہوگی۔ اس کے ساتھ قرنطینہ کے قوانین کو اپنانا ہوگا۔ تاہم مختلف ملکوں سے آنے والے مسافروں کے لیے قوانین مختلف ہیں۔

یو اے ای کے رہائشی جو ایسے ملک سے واپس آ رہے ہیں جہاں کورونا کا خطرہ زیادہ نہیں ہے، ان کے لیے قرنطینہ میں رہنے کا دورانیہ 7 دن جبکہ ہائی رسک ممالک سے آنے والوں کے لیے قرنطینہ کا دورانیہ 14 دن ہے۔  مسافروں کو اپنے گھر میں یا حکومتی قرنطینہ سنٹر میں 14 دن پورے کرنے ہوں گے۔ تاہم قرنطینہ کے دوران ہونےوالے اخراجات مسافر کو خود برداشت کرنے ہوں گے۔

قرنطینہ قوانین کی خلاف ورزی پر کتنا جرمانہ ہوگا؟

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پاس کی گئی قرارداد نمبر 38 کے مطابق گھر میں قرنطینہ ہونے سے متعلق دی گئی ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں 50 ہزار درہم جرمانہ کیا جائے گا۔

ممکن ہے کہ واپس آنے والے بعض رہائشیوں کے آجروں کو ان مسافروں کے میڈیکل اور قرنطینہ کے اخراجات برداشت کرنے پڑٰیں۔

تمام مسافروں الحسن ایپ ڈاؤن لوڈ کرنی ہوگی۔ یہ ایپ قرنطینہ کے دوران حکام کو انکی مانیٹرنگ میں مدد دے گی۔ یہ ایپ انڈراوئڈ اور آئی او ایس  ڈیوائسز پر مفت ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔

اس ایپ سے حکام گھر میں قرنطینہ ہوئے مسافروں کے مانیٹر کر پائیں گے کہ آیا وہ ہدایات پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔

گھر میں قرنطینہ ہونے کے لیے  ضروری ہدایات نیچے تصویر میں دی گئی ہیں۔

Source : Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button