خلیج اردو آن لائن:
منی لانڈرنگ اور فراڈ کے الزام میں سزا پانے والے چار تارکین وطن اور زیورات کے ایک تاجر پر ابوظہبی کی عدالت نے 90 ملین درہم جرمانہ عائد کر دیا۔
چاروں تارکین وطن کا تعلق فلپائن سے ہے اور ان ملزمان کو عدالت نے 5 سال قید کی سزا اور ملک بدری کا حکم بھی سنایا ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق مجرمان نے سونے میں سرمایہ کاری کے نام پر 4 ہزار دیگر فلپائنی باشندوں سے دھوکہ کیا تھا۔ حکام نے سزا پانے والے مجرموں کے قبضے سے قیمتی اشیاء بھی برآمد کیں جن میں 7 اشاریہ 4 کلوگرام سونا شامل تھا جس کی قیمت 1 اشاریہ 37 ملین درہم تھی۔
عدالتی حکم کے مطابق چاروں ملزمان کو جیل قید کے ساتھ 10 10 ملین درہم جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ جبکہ سونے کے تاجر 50 ملین درہم جرمانہ الگ سے ادا کرنا ہوگا۔
ابوظہبی جوڈیشل ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ ان مجرمان کی گرفتاری اور ان پر مقدمہ منی لانڈرنگ کے خلاف یو اے ای کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اور ان کوششوں میں متعدد جوڈیشل ، ایگزیکٹو اور مالیاتی اداروں کا اشتراک شامل ہے جس مقصد منی لانڈرنگ سے متعلق اور دیگر مشتبہ مالی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔
ملزمان نے فراڈ کس طرح سے کیا؟
سزا پانے والے ملزمان نے ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اشتہاروں اور ویڈیو کلپس کے ذریعے متاثرہ افراد نشانہ بنایا۔ متاثرہ افراد کو سبسریکپشن پر 2 ہزار درہم بھی ادا کیا گئے اور ایک جعلی اسکیم بنائی گئی کہ اگر کوئی ٹریڈر کسی اور ٹریڈر کو لے کر آتا ہے تو اسے 1 ہزار درہم اضافی دیا جائے گا۔
خیال رہے کہ ایسی سرگرمیاں جعل سازی کے ضمرے میں آتی ہیں کیونکہ اس میں نئے ممبران سے اکٹھی کی گئی رقم کو پرانے ممبران میں تقسیم کر دیا جاتا تھا۔ اور کسی بھی ممبر کو اپنی سرمایہ کاری کے بدلے میں کچھ بھی حاصل نہیں کیا جاتا تھا۔
حکام کی جانب سے عوام کو ایسے بھی فراڈ سے محفوظ رہنے اور ایسی کسی بھی سرگرمی کی اطلاع حکام کو کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
Source: Gulf News







