خلیج اردو آن لائن:
کورونا ایک ایسی بیماری ہے جو بہت جلد ایک شخص سے دوسرے تک پھیلتی ہے۔ اور اس سے بچاؤ کا واحد حل سماجی فاصلہ برقرار رکھنا، ماسک پہننا اور ہاتھ بار بار دھونا ہے۔ کھلی جگہوں پر سماجی فاصلہ برقرار رکھنا آسان لیکن جیلوں میں قید مجرموں کے درمیان سماجی فاصلہ قائم کیسے کروایا جاتا ہوگا؟ جہاں پر تھوڑٰی جگہ پر زیادہ لوگ قید ہوتے ہیں۔
آیئے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ابوظہبی پولیس قیدیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے۔
جمعہ کے روز ابو ظہبی پولیس کے جیلوں سے متعلق ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ابوظہبی پولیس امارات کے اصلاحی اداروں کو جیلوں میں قید قیدیوں کو کورونا سے محفوظ بنانے کے لیے تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کر رہی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس قیدیوں کو کورونا سے محفوظ رکھنے کے لیے عالمی ادارہ صحت کے تجویز کردہ پروٹوکول پر عمل پیرا ہے۔
ابوظہبی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل مکتوم ال شریفی نے وبا کے اثرات کو ختم کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی، انہوں نے موئن سسٹم سے متعلق بھی بتایا جو قیدیوں کو اپنی تمام درخواستیں ایک ہی ٹچ میں رجسٹر کرنے کے قابل بناتا ہے اور اسی سسٹم سے قیدی اپنے دن بھر کے ٹائم ٹبیل، کھانے کے اوقات اور میڈیکل چیک اپ سے متعلق جان پاتے ہیں۔
انکا مزید کہنا تھا کہ ڈائریکٹوریٹ جیلوں کے اندر مزید گنجائش پیدا کر رہا ہے اور کورونا سے متاثرہ قیدیوں کو قبل از ٹرائل حراست میں رکھنے کی بجاے الیکٹرونک مانیٹرنگ کی سہولیات پیدا کر رہا ہے۔
پولیس چیف کا کہنا تھا کہ قیدیوں کی ایک کثیر تعداد کو معاف کردیا گیا تھا اور یواے ای سے اپنے گھروں جا چکے ہیں۔
Source: Khaleej Times






