پاکستانی خبریں

بلاول بھٹو کی جانب سے نامناسب زبان کا استعمال، سوشل میڈیا صارفین نالاں

خلیج اردو
12 ستمبر 2020
بدین: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی بلاول بھٹو زرداری اس وقت سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کی زد میں ہے۔ اس کی وجہ ان کا جمعہ کے روز صوبہ سندھ کے ضلع بدین میں عوام سے خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کیلئے نامناسب زبان کا استعمال ہے۔

بظاہر ضلع بدین میں بارشوں سے متائثرہ علاقوں کا دورہ کرنے والے بلاول بھٹو زرداری جب وہاں جمع ہونے والی عوام سے غیر رسمی خطاب کرنے لگے تو انہوں نے حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے وزیر اعظم کو منافق کہتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کا اپنے معاون خصوصی اور حزب اختلاف کیلئے الگ الگ رویہ ہے۔

بلاول بھٹو نے نام لیے بغیر کہا کہ وزیر اعظم کا ایک معاون ہے جس کی اسپین میں جائیدادیں ہیں اور وہ اپنی جائیدادوں کے حوالے سے بالکل خاموش ہیں جبکہ وہ اپوزیشن کے رہنماؤں کے اثاثوں کے خلاف ٹی وی پر آکر بھونکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے وزیر اعظم کے دیگر معاونین کے اثاثوں کا بھی ذکر کیا اور بولے کہ ایک معاون خصوصی ہے اس کی امریکہ اور پتہ نہیں کہاں کہاں جائیدادیں ہیں لیکن جب ان پر الزامات لگتے ہیں اور وہ اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو پیش کرتے ہیں تو وزیر اعظم استعفیٰ مسترد کرتے ہیں اور یہی وہ منافقانہ رویہ ہے جس میں وزیر اعظم اپوزیشن کو الگ اور اپنی ٹیم کو الگ نظر سے دیکھتے ہیں۔

بلاول بھٹو کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا صارفین اس نامناسب زبان کے استعمال پر نالاں ہیں۔

صحافی اور اینکر پرسن منصور علی خان نے لکھا ہے کہ بلاول صاحب، آپ کی والدہ کبھی ایسی زبان استعمال کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔ افسوس ہوا یہ سب سن کے ۔

 

مارنگ شو کی میزبان شفا یوسفزائی جو اکثر سوشل میڈیا پر کافی فعال رہتی ہے ، نے کہا کہ بلاول بھٹو عوام کا منتخب نمائندہ اور نوجوان رہبر ہے ان کی جانب سے ایسی زبان کا استعمال قابل مذمت ہے۔

سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ملیحہ ہاشمی نے لکھا کہ خواتین و حضرات ان سے ملیے یہ ہیں آکسفورڈ سے فارغ التحصیل گریجویٹ بلاول بھٹو زرداری۔

 

خلیج اردو

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button