متحدہ عرب امارات

دبئی: سکول بس میں دوست کی حادثاتی موت کے بعد 13 سالہ نو عمر کی جانب سے حفاظتی آلے کی ایجاد

اس نے یہ آلہ اپنے دوست محمد فرحان فیصل کی سکول بس میں حادثاتی موت سے متاثر ہو کر بنایا ہے

 

خلیج اردو آن لائن: سکول بس میں دوست کی حادثاتی موت کے بعد دبئی میں ایک 13 سالہ بھارتی نو عمر بچے نے ایک ایسا آلہ ایجاد کیا ہے جو اگر سکول بس میں کوئی بچہ پیچھے رہ جائے تو وہ حکام کو خبردار کرسکتا ہے۔

آٹھویں کلاس کے سبیل بشیر نے اس آلے کا نام سبیل اسمارٹ ویجلنٹ سسٹم رکھا ہے۔  اگر کوئی بچہ سکول بس میں پھنس گیا اور حکام کو اس بات کا علم نہیں ہےتو یہ سسٹم پولیس، ایمبولنس اور سکول انتظامیہ کو میسج بھیج کر خبرادار کر سکتا ہے۔

نجی خبررساں ادارے خلیج ٹائمز سے بات کرتے ہوئے سبیل نے بتایا کہ اس نے یہ آلہ اپنے دوست محمد فرحان فیصل کی سکول بس میں حادثاتی موت سے متاثر ہو کر بنایا ہے۔

سبیل کے والد نے بتایا کہ ” فرحان 6 سال کا تھا جب وہ حادثاتی طور پر المنار اسلامک سنٹر پر ایک نجی بس میں رہ گیا تھا اور دم گھٹںےسے فوت ہوگیا۔ میر اپنا بیٹا بھی وہیں پڑھتا ہے، اور جب یہ حادثہ  ہوا تو ہم اس جگہ تھے، ہم نے اسے ہوش میں لانے کی کوشش بھی کی لیکن وہ ہمیں چھوڑ گیا”۔

سبیل کے والد بشیر کا مزید کہنا تھا کہ ” اس حادثے کے بعد سبیل بہت دنوں تک پریشان رہا لیکن گرمیوں کے بعد اس نے عزم کر لیا کہ وہ ایسا حادثہ دوبارہ نہیں ہونے دے گا”۔

سبیل کا ماننا تھا کہ بسوں میں ایک الرٹ سسٹم ہونا چاہیے۔ سبیل کا کہنا تھا کہ ” اس نے گزشتہ سال اس سسٹم کا پہلا نمونہ تیار کیا اور اس سال مارچ میں اسے روڈ اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے سامنے پیش کیا”۔

یہ ڈیوائس کام کیسے کرتے ہے؟

"سبیل کا ایجاد کردہ سسٹم بس کی چھت میں لگے سنسرز سے منسقل ہوگا۔ اور جیسے ہی بس کا انجن بن ہوگا یہ سنسرز کام کرنا شروع کر دیں گے۔ اگر بس میں کسی کی موجودگی کا پتہ چلا تو یہ سسٹم خودکار طریقے سے الارم بجا دے گا، اور اگر ڈرائیور پاس ہی ہوا تو اس کی توجہ حاصل کر لےگا۔ یہ سسٹم یقینی بنائے گا کہ کوئی بھی طالب علم بس میں نہ رہ جائے”۔

اگر کوئی بچہ بس میں پھنس گیا ہے تو یہ سسٹم بس کا دروازہ کھول دے گا، بس کی لائٹوں جگمگانے لگیں گی، اور بس کا ہارن بجنے لگے گا۔

سبیل کا مزید کہنا تھا کہ ” یہ سسٹم سکول کی ٹرانسپورٹ مینجمنٹ اتھارٹی، ایمبولنس اور دیگر سروسز کو میسج بھیج سکتا ہے”۔

سبیل کی ایجاد کردہ ڈیوائس اس سال مارچ میں دبئی ٹرانسپورٹ حکام کی جانب سے دیکھی گئی اور اسے توصیفی خط بھی دیا گیا۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button