خلیج اردو آن لائن: دبئی میں ایک والدہ نے اپنے 19 سالہ بیٹے کو ایک گردے کا عطیہ کیا تاکہ وہ صحت مند ہو کر اپنی گریجویشن مکمل ہونے کی تقریب میں شرکت کر سکے۔ عمیر اپنی بیماری کی کی وجہ سے اسکول چھوڑنے پر مجبور ہوگیا تھا اور وہ فائنل امتحانات دینے سے قاصر تھا۔
تاہم، ماں کی طرف سے عطیہ کیے گئے گردے کی پیوند کاری کے بعد صحت یاب ہو کر وہ اپنے دوستوں کے ساتھ جا ملا اور گذشتہ ماہ اپنے ہائی اسکول سے گریجویشن مکمل ہونے کی تقریب میں شرکت کی ۔ جہاں اس نے ایک تقریر بھی کی۔
سکول میں اپنے آخری سال کے دوران امریکی طالب علم عمیر کو سر درد محسوس ہونے لگا اور اس کی نظر دھندلے پن کی شکار ہونے لگی۔ جس کے بعد اس نے اپنی ماں کے ساتھ آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر سے ملاقات کی۔
تاہم، ڈاکٹر کے معائنے سے ایک بہت بڑے مسئلے کی تشخیص ہوئی۔ عمیر کے معائنے سے پتہ چلا کہ اس کی آنکھوں کے پٹھوں میں فشار خون بہت تیز ہے اور اس ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے اس کے گردے متاثر ہو چکے ہیں اور وہ محض 8 فیصد کام کر رہے ہیں۔
کلیو لینڈ کلینک ابوظہبی کے ایک ٹرانسپلانٹ نیفروولوجسٹ ڈاکٹر نذیر عطااللہ نے کہ”جب ہمیں پتہ چلا کہ عمیر کی بیماری بہت بڑھ چکی ہے تو ہمیں احساس ہوا کہ عمیر کو مکمل طور پر صحت یاب ہونے کے لئے گردے کے ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہوگی "۔
عمیر کی ماں سفوا نے خلیج ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب ڈاکٹروں اسے اس کے بیٹے کی صحت سے متعلق بتایا تو صدمے میں چلی گئی۔ "تب میں نے سوچا کہ میں اب کیا کروں گی۔ لیکن میں عزم کیا کہ میں اپنے بیٹے کو اپنا ایک گردہ عطیہ کروں گی”۔
عمیر کہ والدہ کا مزید کہنا تھا کہ ” یہ ایسا عمل ہے جو کوئی بھی ماں کر گزرے گی اگر وہ اس قابل ہوئی تو۔ میں بہت سارے ایسے والدین سے ملی جو ایسا نہیں کر پائے تھے۔ اس سے ہمیں عضا عطیہ کرنے کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے”۔
عمیر کی والدہ کے تفصیلی معائنے کے بعد اسے عمیر کو گردہ عطیہ کرنے کا اہل قرار دے دیا گیا۔ گردے کے ٹرانسپلانٹ کے بعد عمیر بہت جلد صحتیاب ہوگیا اور چلنے لگا تھا۔ عمیر کو 6 دن بعد ہسپتال سے چھٹی دے دی گئی ۔
عمیر اپنی ماں کے حوالے سے جذبات کا اظہار کرتے ہیں:
عمیر کہتے ہیں کہ ” جو کچھ میری ماں نے کیا میں اس کے لیے اسکا شکرگزار ہوں۔ میں اس کی قربانی کو سراہتا ہوں۔ مجھے پیدا کرنے علاوہ یہ دوسرا تحفہ تھا جو اس نے مجھے دیا۔ میں نہیں جانتا کہ مجھے زندگی کا دوسرا موقع دینے پر میں اپنی ماں کا کیسے شکریہ ادا کروں”۔
عمیر نے مزید بتایا کہ سرجری کے بعد وہ بہت اچھا محسوس کر رہا ہے اور خود کو انرجی سے بھرا محسوس کرتا ہے۔
Source: Khaleej Times






