خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں اسکول کے بعد کی سرگرمیاں (After-School Activities) اب محض وقت گزاری نہیں رہیں بلکہ بچوں کی شخصیت سازی، صلاحیتوں کے نکھار اور مستقبل کے تعلیمی امکانات کے لیے لازمی سمجھی جانے لگی ہیں۔ روبوٹکس، میوزک، کھیل اور مباحثوں سے لے کر پرفارمنگ آرٹس اور کوڈنگ تک، اسکولز میں مختلف کلب اور سرگرمیاں دستیاب ہیں، تاہم والدین کو شیڈول، بجٹ اور بچوں کی دلچسپیوں کے درمیان توازن قائم کرنا ایک چیلنج بن گیا ہے۔
زیادہ تر اسکول ہر ٹرم میں کم از کم ایک سرگرمی مفت فراہم کرتے ہیں، مگر اسپورٹس کوچنگ، ڈرامہ یا کوڈنگ جیسی خصوصی سرگرمیوں کے لیے فیس بھی لی جاتی ہے، جو چھوٹی آن لائن کلاسز کے لیے ماہانہ 100 درہم سے شروع ہو کر پریمیم پروگرامز کے لیے فی کلاس 250 درہم سے زائد تک جا پہنچتی ہے۔
* دلچسپی کو ترجیح دیں، دباؤ نہیں
ایکیلا اسکول کے پرنسپل وین ہاؤسن کے مطابق یہ سرگرمیاں بچوں کی حقیقی دلچسپی کے مطابق ہونی چاہئیں، نہ کہ محض وقت گزاری یا والدین کے دباؤ پر۔
پرائمری سطح پر ایک مفت سرگرمی لازمی دی جاتی ہے جبکہ اضافی سرگرمیوں کے لیے محدود نشستیں دستیاب ہوتی ہیں۔ خصوصی کوچنگ عام طور پر ادائیگی پر ہوتی ہے۔
کئی مقبول سرگرمیوں کی بکنگ چند منٹوں میں مکمل ہو جاتی ہے۔ بعض والدین کے مطابق بچوں کو پسندیدہ کلب میں جگہ پانے کے لیے ایک سال سے زیادہ انتظار کرنا پڑا۔
رائل گرامر اسکول دبئی کے پرنسپل میتھیو پیئرس کے مطابق بچوں کو بہت زیادہ سرگرمیوں میں الجھانے کے بجائے توازن رکھنا ضروری ہے۔ ایک سرگرمی جسے بچہ پسند کرے، ایک جو اسے چیلنج کرے اور ایک جو اسے متحرک رکھے، بہترین امتزاج ہے۔
کئی والدین اسکول کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بیرونی کلاسز کا انتخاب بھی کرتے ہیں تاکہ سفر کم ہو اور بچوں کو تنوع ملے۔
والدین کے مطابق سرگرمیوں میں سرمایہ کاری کا فیصلہ اکثر معیار اور طویل مدتی فائدے کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
کالج داخلوں میں غیر نصابی سرگرمیوں کو بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق امریکہ میں تقریباً 50 فیصد یونیورسٹیاں انہیں داخلے کے عمل میں "اہم” یا "انتہائی اہم” قرار دیتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق قیادت، ٹیم ورک اور مستقل مزاجی کے ساتھ انجام دی گئی سرگرمیاں طلبہ کو نمایاں کرتی ہیں۔
ہیلو ایجوکیشن کے پیٹر ڈیواس کے مطابق، جب امیدواروں کے گریڈز اور ٹیسٹ اسکورز تقریباً برابر ہوں تو ان کی غیر نصابی سرگرمیاں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔






