
خلیج اردو
دبئی: ایمیزون کی جانب سے حالیہ عالمی پیمانے پر کارپوریٹ ملازمین کی برطرفیوں کے بعد متحدہ عرب امارات میں بھرتی کے ماہرین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی وجہ سے نوکریوں میں کمی کا رجحان جلد خلیج میں بھی دیکھنے کو ملے گا۔
مارک ایلس کنسلٹنگ اینڈ ٹریننگ کے شریک بانی زید الحیالی نے کہا کہ "یہ وہ لہر ہے جو یقینی طور پر ہماری طرف آرہی ہے۔ جو کچھ امریکہ میں ایمیزون یا میٹا جیسی کمپنیوں کے ساتھ ہوا، وہ بالآخر خلیج کی مارکیٹ تک پہنچے گا۔ اب اے آئی صرف آپریشنل نہیں بلکہ سافٹ ویئر انجینئرنگ جیسے ٹیکنیکل شعبوں میں بھی داخل ہو چکی ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ مختلف کمپنیوں میں اب ایسے نظام موجود ہیں جو انجینئروں کے بجائے چند منٹوں میں وہی تکنیکی تجزیہ مکمل کر لیتے ہیں جو پہلے دس افراد کرتے تھے۔ الحیالی کے مطابق تیل و گیس، بینکنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اے آئی تیزی سے اختیار کی جا رہی ہے، جس سے اماراتائزیشن پالیسیوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "پہلے کمپنیوں میں اماراتیوں کو انٹری لیول کال سینٹرز میں رکھا جاتا تھا، مگر اب یہ کام بھی اے آئی سسٹمز سنبھال رہے ہیں جو مختلف زبانوں اور لہجوں میں کسٹمرز سے مؤثر رابطہ کر سکتے ہیں۔”
الحیالی نے پیش گوئی کی کہ اگلے دو سالوں میں بڑے پیمانے پر برطرفیوں کا امکان ہے، لیکن زیادہ تر کمپنیاں اس عمل کو خاموشی سے انجام دیں گی۔ تاہم، کچھ ادارے ملازمین کو فارغ کرنے کے بجائے انہیں اے آئی کی تربیت دے رہے ہیں تاکہ وہ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہ سکیں۔
ان کے مطابق "اگر کسی کمپنی میں دس سافٹ ویئر انجینئرز ہیں جو ماہانہ 25 ہزار درہم لیتے ہیں، تو اے آئی سسٹم اسی کام کو 70 سے 80 فیصد کم لاگت پر کر سکتا ہے — وہ بیمار نہیں ہوتا، چھٹی نہیں لیتا، اور چوبیس گھنٹے کام کرتا ہے۔”
دوسری جانب، مارک ایلس کے شریک بانی اوز اسماعیل نے کہا کہ اے آئی کو خطرہ نہیں بلکہ سہولت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق "اے آئی کا مقصد انسانی ملازمین کی جگہ لینا نہیں بلکہ ان کی پیداواریت بڑھانا ہے۔ جو لوگ محض اے آئی پر انحصار کرتے ہیں، وہ جلد بے کار ہو سکتے ہیں، مگر جو اسے اپنی مہارت بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہ مزید قیمتی بن جاتے ہیں۔”
مارک ایلس نے خطے میں پہلا "اے آئی ریکروٹر” بھی متعارف کرایا ہے جو امیدواروں سے خودکار گفتگو کرتا ہے، سی وی کا جائزہ لیتا ہے اور موزوں پروفائلز انسانی ریکروٹرز کو بھیجتا ہے۔ اس سسٹم کی بدولت بھرتی کی رفتار میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اماراتی امیدوار سکینہ عبدالحسین نے بتایا کہ اے آئی انٹرویو کا تجربہ ان کے لیے مثبت رہا۔ "مجھے شروع میں اندازہ نہیں ہوا کہ میں روبوٹ سے بات کر رہی ہوں۔ جب پتہ چلا تو مزید پُراعتماد ہو گئی، کیونکہ دباؤ نہیں تھا۔” اسی طرح فلپائنی امیدوار جوشوا لِمکاؤکو نے کہا کہ "اے آئی انٹرویو نے بغیر کسی جانبداری کے میری صلاحیتوں کا جائزہ لیا اور بات چیت میں انسانی انداز اپنایا۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یو اے ای میں بڑے پیمانے پر برطرفیاں ابھی نہیں ہوئیں، لیکن یہ صرف وقت کی بات ہے۔ از اسماعیل کے مطابق "امریکہ میں چونکہ اے آئی پہلے اپنائی گئی، اس لیے وہاں اثرات پہلے ظاہر ہوئے۔ یہاں بھی وہی رجحان آئے گا اگر لوگ اپنی مہارت نہیں بڑھاتے۔”
دونوں ماہرین نے متفقہ طور پر مشورہ دیا کہ ملازمین کو چاہیے کہ وہ فوراً اے آئی سیکھیں۔ الحیالی نے کہا، "سمجھدار ملازم وہی ہے جو یہ مان لے کہ ایک دن اسے بدلا جا سکتا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ ابھی سے خود کو تیار کرے۔ جو آج خود پر محنت کرے گا، وہ کل محفوظ رہے گا۔







