
خلیج اردو
دبئی: البرشاء میں رواں ہفتے ایک عمارت میں لگنے والی آگ کے بعد کچھ رہائشیوں کو اپنے اپارٹمنٹس میں جا کر ضروری سامان جمع کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے، جبکہ دیگر کو ابھی بھی واپسی کا انتظار ہے۔
جمعرات کی صبح پانچویں منزل تک کے کرایہ داروں کو اپنے اپارٹمنٹس میں داخل ہو کر دستاویزات، کپڑے اور ادویات جیسی اشیاء لینے کی اجازت دی گئی۔ اعلیٰ منزلوں پر رہنے والوں کو جمعہ کو اندر جانے کی اجازت دی جائے گی۔ منگل کی رات نیچے واقع ایک ریستوران میں گیس لیکیج کے باعث آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے نتیجے میں سیکڑوں رہائشیوں کو فوری طور پر عمارت خالی کرنی پڑی۔
تیسری منزل پر رہائش پذیر پاکستانی شہری اسلم ملک، جو ایک انشورنس بروکریج فرم میں کام کرتے ہیں، نے کہا کہ جب انہیں اندر جانے کی خبر ملی تو انہیں بہت سکون ملا۔ "میرا دفتر قریب ہی ہے، میں نے فوراً اپنے مینیجر سے بات کی اور چند گھنٹوں کی چھٹی لی۔ پھر جلدی سے ضروری سامان لینے پہنچ گیا،” انہوں نے بتایا۔
اسلم اس وقت ایک دوست کے گھر میں رہائش پذیر ہیں۔ "یہ مشکل وقت ہے۔ ہم شکر گزار ہیں کہ سر چھپانے کی جگہ ملی، مگر خالی ہاتھ رہنا آسان نہیں۔ ہم نہیں جانتے کب واپس اپنے گھر جا سکیں گے، صرف اپ ڈیٹس کا انتظار کر رہے ہیں۔”
فلپائنی شہری میری بانکاس نے بتایا کہ وہ آگ کے وقت صرف اپنے سلیپ ویئر میں عمارت سے نکلی تھیں۔ "میرے پاس بیگ یا چپل لینے کا بھی وقت نہیں تھا، بس دوڑ پڑی،” انہوں نے کہا۔ میری بھی ایک دوست کے گھر مقیم ہیں اور اب انہیں اپنے کچھ ضروری سامان لینے کی اجازت ملنے پر کچھ سکون ملا ہے۔ "اب کم از کم میں اپنے کپڑے، دستاویزات اور دیگر ذاتی اشیاء حاصل کر سکتی ہوں، لیکن یہ محض عارضی ریلیف ہے، ہم اپنے گھروں میں واپس جانا چاہتے ہیں۔”
دوسری منزل پر رہنے والی کیمرونی شہری کارن نے بتایا کہ جیسے ہی انہیں اجازت کی خبر ملی، فوراً عمارت پہنچ گئیں۔ "میں کوئی وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی۔ میں فوراً پہنچ گئی،” انہوں نے کہا۔ انہوں نے کپڑے اور اپنی دوائیاں جمع کیں۔ "دوائیاں مل جانا میرے لیے بڑی راحت ہے کیونکہ میں ان کے بغیر کافی پریشان تھی،” کارن نے بتایا۔
جبکہ دسویں منزل پر رہنے والے راج تیواری ابھی بھی انتظار میں ہیں۔ انہوں نے آگ کی رات اپنی گاڑی میں گزاری اور اگلے دن اہم کاروباری میٹنگ کے لیے کپڑے خریدے اور لیپ ٹاپ ادھار لیا۔ "یہ بہت تھکا دینے والا تھا، مگر میں نے کسی طرح گزارا کیا۔ میں دعا کر رہا ہوں کہ کل ہمیں اندر جانے دیا جائے کیونکہ میرا پاسپورٹ اپارٹمنٹ میں ہے اور مجھے کاروباری دورے پر جانا ہے،” انہوں نے بتایا۔
رہائشیوں کی سب سے بڑی پریشانی اب واپسی کی تاریخ اور حالات کی وضاحت ہے۔ گزشتہ دو دن ان کے لیے بے یقینی، دباؤ اور نیند سے محرومی کا باعث رہے ہیں، مگر کم از کم ضروری سامان حاصل ہونے سے کچھ سکون ملا ہے۔







