خلیج اردو
دبئی: دنیا بھر میں خودکار گاڑیوں کی ٹیکنالوجی میں پیش رفت نہ صرف ڈرائیورز بلکہ ٹریفک اتھارٹیز، پولیس محکموں اور پالیسی سازوں کے لیے بھی امید کی کرن بن چکی ہے۔ دبئی پولیس ہیڈ کوارٹرز کے ٹریفک ماہر عبداللہ الفلاسی کے مطابق انسانی غلطی تقریباً 90 فیصد سڑک حادثات کی بنیادی وجہ ہے۔
عالمی پولیس سمٹ کے اختتامی دن خطاب کرتے ہوئے الفلاسی نے کہا کہ انسانی تھکاوٹ، توجہ کی کمی، اور غلط فیصلے سنگین حادثات کی بڑی وجوہات ہیں۔ تیز رفتاری، جارحانہ ڈرائیونگ اور خاص طور پر موبائل فون استعمال کرنا یا گاڑی کے اندر دیگر سرگرمیوں میں مشغول ہونا مہلک نتائج کا سبب بنتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پیچھے سے ٹکرانے کے بیشتر واقعات بھی انہی وجوہات کی بنا پر ہوتے ہیں۔
الفلاسی نے تھکاوٹ کو حادثات کی ایک اور بڑی وجہ قرار دیا اور بتایا کہ تھکے ہوئے ڈرائیور اکثر مائیکرو سلیپ کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی توجہ اور فیصلہ سازی کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ مزید برآں، انہوں نے نفسیاتی دباؤ، طبی مسائل، دواؤں کے اثرات اور ناتجربہ کاری جیسے عوامل کو بھی حادثات کی وجوہات میں شامل کیا۔
ان تمام خطرات کے باوجود الفلاسی نے کہا کہ خودکار گاڑیاں ایک امید افزا مستقبل کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ سوسائٹی آف آٹوموٹیو انجینئرز کے نظام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ خودکار ڈرائیونگ کو لیول 0 سے لے کر لیول 5 تک تقسیم کیا گیا ہے، جہاں مکمل خودمختاری لیول 5 پر حاصل ہوتی ہے۔ اس وقت کئی گاڑیاں لیول 2 اور 3 پر کام کر رہی ہیں، اور لیول 4 کی آزمائش جاری ہے، خاص طور پر خودکار ٹیکسیوں میں۔
الفلاسی نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ یہ انسانی غلطیوں کے امکانات کو کم کر کے حادثات کی شرح کم کر سکتی ہے۔
انہوں نے V2V (گاڑی سے گاڑی) اور V2X (گاڑی سے ہر شے) کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی اہمیت پر بھی زور دیا جو گاڑیوں کو حقیقی وقت میں ایک دوسرے سے معلومات کے تبادلے اور خطرات سے بچنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ خصوصیات ایمرجنسی ریسپونڈرز اور ٹریفک کنٹرول سینٹرز کو بھی زیادہ مؤثر بناتی ہیں۔
الفلاسی نے کہا کہ خودکار گاڑیاں نہ صرف چلتی ہیں بلکہ سڑکوں، دیگر گاڑیوں اور شہری نظام سے بھی بات چیت کرتی ہیں، جو سمارٹ اور محفوظ شہروں کی بنیاد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ گاڑیاں ڈیٹا اکٹھا کرنے کے طاقتور ذرائع بھی ہیں، جس سے ٹریفک پیٹرنز، خطرناک زونز اور سڑکوں کے استعمال سے متعلق معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، جو انفراسٹرکچر اور قانون سازی میں پالیسی سازوں کی مدد کریں گی۔
پیدل چلنے والوں اور سائیکلسٹ کے تحفظ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خودکار گاڑیوں میں جدید سینسرز نصب ہوتے ہیں جو انسانی ڈرائیور کے مقابلے میں زیادہ درستگی سے ان کا پتہ لگاتے ہیں اور انہیں راستہ دینے یا حادثات سے بچانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
آخر میں الفلاسی نے زور دیا کہ خودکار ٹیکنالوجیز کی ترقی اور نفاذ میں سرمایہ کاری جاری رکھنی چاہیے، کیونکہ یہ محض سہولت نہیں بلکہ قیمتی جانوں کے تحفظ اور مستقبل کے محفوظ ٹریفک نظام کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔







