
خلیج اردو
پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا پر بھارت کے خلاف ویمنز ایشیا کپ 2026 کے گروپ اے کے میچ میں آئی سی سی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کردیا گیا۔
آئی سی سی کے مطابق فاطمہ ثنا نے ضابطہ اخلاق کے لیول ون کی شق 2.5 کی خلاف ورزی کی، جس کا تعلق آؤٹ ہونے والے بلے باز کی جانب ایسے زبان، حرکات یا اشاروں کے استعمال سے ہے جو اسے اشتعال دلا سکتے ہوں یا اس کی تضحیک کا باعث بنیں۔
واقعہ بھارت کی اننگز کے دوسرے اوور میں پیش آیا، جب فاطمہ ثنا نے اوپنر شفالی ورما کو آؤٹ کرنے کے بعد پویلین کی جانب اشارہ کیا۔
فاطمہ ثنا نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے آئی سی سی کی انٹرنیشنل پینل آف میچ ریفریز کی رکن سپریا رانی داس کی جانب سے تجویز کردہ سزا قبول کرلی، جس کے بعد باقاعدہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
فاطمہ ثنا کے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی شامل کردیا گیا۔ یہ 24 ماہ کے دوران ان کی دوسری خلاف ورزی ہے اور ان کے مجموعی ڈی میرٹ پوائنٹس کی تعداد دو ہوگئی ہے۔
اس سے قبل فاطمہ ثنا کو 6 اگست 2025 کو ڈبلن میں آئرلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز کے پہلے میچ میں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دیا گیا تھا۔
آئی سی سی کے مطابق لیول ون کی خلاف ورزی پر کم از کم باضابطہ سرزنش جبکہ زیادہ سے زیادہ 50 فیصد میچ فیس کا جرمانہ اور ایک یا دو ڈی میرٹ پوائنٹس دیے جاسکتے ہیں۔
24 ماہ کے دوران کسی کھلاڑی کے ڈی میرٹ پوائنٹس چار یا اس سے زیادہ ہونے کی صورت میں انہیں سسپنشن پوائنٹس میں تبدیل کردیا جاتا ہے اور کھلاڑی پر پابندی عائد ہوسکتی ہے۔
دو سسپنشن پوائنٹس کی صورت میں کھلاڑی کو ایک ٹیسٹ یا دو ون ڈے یا دو ٹی ٹوئنٹی میچز میں سے جو پہلے ہوں، اس سے معطل کیا جاسکتا ہے۔ ڈی میرٹ پوائنٹس 24 ماہ تک کھلاڑی کے ریکارڈ کا حصہ رہتے ہیں، جس کے بعد انہیں ختم کردیا جاتا ہے۔







