
خلیج اردو
دبئی: ایشیا کپ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور متنازعہ نو-ہینڈشیک پالیسی کے باوجود، متحدہ عرب امارات کی کرکٹ ٹیم میں بھارتی نژاد اور پاکستانی نژاد کھلاڑیوں نے شاندار کھیل اور غیر معمولی باہمی ہم آہنگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا ہے کہ کھیل ہر قسم کی تقسیم کو مٹا دیتا ہے۔
یو اے ای کی قومی ٹیم تاریخی طور پر جنوبی ایشیائی تارکین وطن پر انحصار کرتی آئی ہے۔ اگرچہ چند اماراتی بھی بین الاقوامی سطح پر کھیل چکے ہیں، مگر زیادہ تر کھلاڑی بھارتی اور پاکستانی نژاد ہیں۔ موجودہ ٹیم کی قیادت محمد وسیم کر رہے ہیں، جو میان چنوں، پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں اور محض چند کلب میچز کھیلنے کے بعد نو سال قبل دبئی آئے تھے۔ آج وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں تین ہزار رنز مکمل کرنے والے چوتھے تیز ترین بلے باز ہیں۔
پاکستانی شہر ملتان کے جنید صدیقی نے پاکستان کے خلاف شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے 18 رنز کے عوض چار کھلاڑی آؤٹ کیے، جبکہ بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے بائیں ہاتھ کے اسپنر سمرنجیت سنگھ نے تین وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کی بیٹنگ لائن کو ہلا کر رکھ دیا۔
پونے سے تعلق رکھنے والے آل راؤنڈر دھروو پرشارتھ نے 20 رنز بنائے اور نئی دہلی میں پیدا ہونے والے راہول چوپڑا کے ساتھ 48 رنز کی پارٹنرشپ کی۔ اگرچہ پاکستان نے یہ میچ 41 رنز سے جیتا، لیکن یو اے ای کی ٹیم نے زبردست فائٹ کا مظاہرہ کیا۔
کپتان محمد وسیم کا کہنا تھا کہ "ہماری ٹیم میں کوئی بھارتی یا پاکستانی نہیں، ہم سب یو اے ای کے لیے کھیلتے ہیں، ہم ایک خاندان ہیں۔” دھروو پرشارتھ نے بھی کہا کہ ٹیم کے اندر تعلقات اس قدر مضبوط ہیں کہ ہر کھلاڑی ایک دوسرے پر اعتماد کرتا ہے۔
راہول چوپڑا نے اپنے قریبی دوست اور لاہور میں پیدا ہونے والے آصف خان کے بارے میں کہا کہ "ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھاتے ہیں، گھومتے ہیں، سب ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں، اس لیے انڈیا-پاکستان کی باتیں ہمارے لیے بے معنی ہیں۔”
یو اے ای کے کھلاڑیوں کی یہ یکجہتی ایشیا کپ میں ان کی سب سے بڑی طاقت بن کر ابھری ہے۔ اگرچہ وہ ایونٹ سے باہر ہو گئے ہیں، لیکن ان کا اتحاد اگلے سال بھارت اور سری لنکا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کی جدوجہد میں ان کا اصل ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔







