سپورٹس

ایشیا کپ: پاکستان کرکٹ بورڈ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر ایکشن کی زد میں

خلیج اردو
اسلام آباد: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو ایشیا کپ کے دوران یو اے ای کے خلاف میچ میں ضابطہ اخلاق کی متعدد خلاف ورزیوں پر خط اور ای میلز کے ذریعے آگاہ کیا ہے اور امکان ہے کہ پی سی بی کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق خلاف ورزیوں میں میچ کے دن اسٹیڈیم کے اندر ویڈیو ریکارڈنگ کرنا اور بعد ازاں اس فوٹیج کو پی سی بی کے آفیشل سوشل میڈیا چینلز پر پوسٹ کرنا شامل ہے، جس پر آئی سی سی نے شدید اعتراض کیا۔ بورڈ کی جانب سے اس بات کی بھی وضاحت نہیں کی گئی کہ فلمائی گئی فوٹیج کا استعمال کس مقصد کے لیے کیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے اس وقت ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی جب اس کے میڈیا منیجر نے ٹاس سے قبل میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور کپتان سلمان علی آغا کی میٹنگ کو فلمایا، حالانکہ آئی سی سی نے واضح طور پر ایسے اجلاسوں میں میڈیا منیجرز کی موجودگی پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔

یاد رہے کہ 17 ستمبر کو یو اے ای کے خلاف میچ ایک گھنٹے کی تاخیر سے اس وقت شروع ہوا جب پاکستان نے میچ ریفری پائی کرافٹ کو ہٹانے سے انکار پر احتجاج کیا۔ اس تنازع کی بنیاد 14 ستمبر کو بھارت کے خلاف میچ کے بعد رکھی گئی جب بھارتی ٹیم نے پاہلگام حملوں کے خلاف احتجاج کے طور پر پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے گریز کیا۔ بعد ازاں پائی کرافٹ نے دونوں ٹیموں کے کپتانوں کو ہاتھ ملانے سے روک دیا، جس پر پی سی بی نے شدید ردعمل دیا اور پوسٹ میچ پریزنٹیشن میں شرکت سے انکار کر دیا۔

بعد ازاں ایشین کرکٹ کونسل، آئی سی سی اور پائی کرافٹ کے درمیان مذاکرات کے بعد پاکستان نے میچ کھیلنے پر آمادگی ظاہر کی۔ تاہم تنازع مزید اس وقت بڑھا جب پی سی بی نے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ پائی کرافٹ نے پاکستانی ٹیم کے مینیجر اور کپتان سے معافی مانگ لی ہے، جب کہ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ میچ ریفری نے محض "غلط فہمی پر افسوس” کا اظہار کیا تھا۔

آئی سی سی نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ان تمام امور اور ممکنہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کی مزید تحقیقات کرے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button