خلیج اردو آن لائن:
کسی دوسرے باشندے کا آئی ڈی کارڈ استعمال کر کے کمپنی جنریٹر چوری کرنے اور پھر انہیں فروخت کرنے کے الزام میں ایک 36 ایشیائی باشندے کے خلاف میں دبئی کی کریمنل کورٹ میں مقدمے کا آغاز۔
ملزم کو گرفتار کرنے والے پولیس افسر نے گواہی دی ہے کہ "آپریشن روم کو دبئی میں ایک پراجیکٹ لوکیشن سے ایک جنریٹر کے چوری ہونے کی اطلاع ملی تھی۔ جس کے بعد تفتیش شروع کی گئی تو جنریٹر کو ٹرانسپورٹ کرنے کے لیے استعمال کی گئی گاڑی کی شناخت ہوگئی”َ۔
جس کے بعد گاڑی کے ڈرائیور سے تفتیش کی گئی تو اس نے بتایا کہ ایک شخص کی جانب سے فون آیا تھا، اور اس نے خود کو ٹرانسپورٹیشن فیلڈ میں کام کرنے ولا بتایا۔ ڈرائیور نے مزید بتایا کہ فون کا کرنے والے شخص نے "مجھے مزید تفصیلات بتائے بغیر دی گئی لوکیشن پر پہنچنے اور پھر وہاں سے جنریٹر ٹرانسپورٹ کرنے کا کہا”۔
ڈرائیور نے لوکیشن پر پہنچ کر جنریٹر اٹھایا اور اسے شارجہ میں ایک آٹو سپیئر پارٹس کی دکان پر پہنچا دیا۔
جس کے بعد پولیس نے آٹو سپیئر پارٹس کی دکان کے مالک سے تفتیش کی تو اس نے پولیس کو بتایا کہ اس سے ایک شخص نے رابطہ کیا تھا اور جنریٹر فروخت کرنے کی پیش کش کی تھی، مزید برآں، ملزم نے جنریٹر کا بل اور تصویریں بھی فروخت کنندہ کو بھیجیں۔
پولیس نے ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے ایک پلان تیار کیا اور اسے مزید جنریٹر فروخت کرنے کے جھانسہ دیا، جب اس نے ایسا کیا تو پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ پولیس کو پتہ چلا کہ ملزم کسی دوسرے باشندے کی آئی ڈی کا استعمال کرتے ہوئے جنریٹر چوری کرتا تھا اور پھر انہیں فروخت کر دیتا تھا۔
Source: Gulf Today.







