خلیج اردو آن لائن:
یو اے ای کے کریمنل پروسیجر لاء کے آرٹیکل 45 کے مطابق پولیس یا پبلک پراسیکیوٹر کو کسی جرم میں ملوث مشتبہ شخص کو گرفتار کرنے اور اس کا پاسپورٹ ضبط کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
آرٹیکل 45 کے مطابق گرفتاری کے احکامات دینےکے لیے مجاز جوڈیشل آفیسر درج زیل جرائم میں ملزم کی گرفتار کا حکم دے سکتا ہےبشرطیکہ ملزم کے خلاف مناسب ثبوت موجود ہوں:
1۔ سنگین جرائم کی صورت میں گرفتاری کا حکم دیا جاسکتا ہے
2۔ بد اعنوانی کی صورت میں، جس میں الزام عائد کیا جا چکا ہو اور جس کی سزا جرمانہ نہ ہو
3۔ بد اعنوانی کا مرتکب مجرم اگر پرابیشن، یعنی ضمانت پہ اور اس کے فرار ہونے کی خطرے کی وجہ سے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
4۔ چوری، دھوکہ دہی، مجرمانہ خیانت، بدسلوکی، طاقت کے ذریعہ سرکاری اہلکاروں کے خلاف مزاحمت اور اسلحہ، گولہ بارود، نشہ آور ادویات، اور خطرناک منشیات سے متعلق عوامی اخلاقیات کے تقدس کی پامالی کرنے کی صورت میں۔
تاہم، تفتیش کے دوران پولیس ملزم کا بیان ریکارڈ کرنے بعد اور اسے عدالت میں حاضری کے لئے طلب کرنے کے بعد ضمانت پر رہا کر سکتی ہے۔ ضمانت رقم صورت میں ہوسکتی ہے یا صرف مشتبہ شخص کے پاسپورٹ یا اس کے کسی رشتہ دار کا پاسپورٹ ہوسکتا ہے۔ ضمانت میں پاسورٹ رکھنا اس بات کی گارنٹی ہوتی ہے کہ مشتبہ شخص ملک سے فرار نہ ہو جائے اور عدالتی پروسیجر پر عمل کرے۔
اسمارٹ گارنٹٰی کا نظام:
10 اپریل 2018 کو اماراتی خبر رساں ایجنسی WAM نے خبر دی تھی کہ دبئی پولیس پراسیکیوشن کی جانب سے اسمارٹ گارنٹی کا نظام لانچ کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق اب ضمانت کے طورپر پاسپورٹ ضبط کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ تمام معلومات الیکٹرونک سسٹم میں محفوظ کی جائیں گے۔
لیکن پاسپورٹ کا مالک عدالتی کاروائی مکمل ہونے تک ملک نہیں چھوڑ پائے گا۔
اس اقدام سے نہ صرف لوگ اپنی دستاویزات اپنے پاس رکھ پائیں گے بلکہ گرفتاریوں میں بھی کمی آئے گی اور مشتبہ شخص اپنے روزمرہ کے امور بھی نمٹا سکیں گے۔
Source: Gulf News







