
ڈبئی: Avatar فرنچائز کی تیسری قسط، Avatar: Fire and Ash نے توقعات کے باوجود باکس آفس پر اپنی گرفت مضبوط نہیں کر پائی۔ ابتدائی طور پر اس فلم سے دنیا بھر میں شائقین نے اعلیٰ نتائج کی امید رکھی تھی، مگر ریلیز کے چند دن بعد ہی واضح ہوا کہ فلم پچھلے دو پارٹس جتنی مقبولیت حاصل نہیں کر پا رہی۔
پہلی فلم Avatar (2009) نے عالمی سطح پر 2.9 بلین ڈالر کمائے جبکہ 2022 میں آنے والی سیکوئل The Way of Water نے 2.3 بلین ڈالر کمایا۔ Fire and Ash نے ابتدائی تین دن میں عالمی سطح پر 347 ملین ڈالر کی کمائی کی، جس کے بعد پہلے ہفتے کے ابتدائی دنوں میں ریونیو میں کمی دیکھنے کو ملی۔ چوتھے دن عالمی کُل آمدنی 398.7 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو 2025 کے بڑے اوپنرز میں شامل ہے لیکن The Way of Water کے آغاز سے 25 فیصد کم ہے۔
شائقین اور ناقدین نے فلم پر ملی جلی رائے دی۔ کچھ نے اسے بصری لحاظ سے شاندار اور دلچسپ قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے "سخت اور اداس تجربہ” کہا۔ سام وورثنگٹن اور زوئی سالڈانا نے اپنی کرداروں کو دوبارہ نبھایا، جبکہ اوونا چیپلن نئے اینٹی ہیرو کے طور پر شامل ہوئیں۔
فلم کی کارکردگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ Fire and Ash ابھی تک اپنے پیشرو فلموں کے شاندار معیار تک نہیں پہنچ سکی، تاہم فرنچائز ختم نہیں ہوئی۔ جیمز کیمرون کی منصوبہ بندی کے مطابق چوتھی قسط 2029 میں اور پانچویں 2031 میں ریلیز ہوگی، جس سے Avatar کی عالمی شناخت کو دوبارہ مضبوط کرنے کا وقت موجود ہے۔
Avatar فرنچائز نے اپنے عہد میں کئی ریکارڈ توڑے، جن میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم اور سائنس فکشن میں سب سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے والی فلم کے اعزازات شامل ہیں۔
Avatar: Fire and Ash کے پہلے ہفتے کی یہ صورتحال یاد دہانی ہے کہ حتیٰ کہ ایک عالمی سطح کی فرنچائز بھی شائقین کی دلچسپی کے بغیر محفوظ نہیں رہ سکتی۔







