
خلیج اردو
یو اے ای میں بیک ٹو اسکول سیزن کے لیے والدین کی تیاریوں کے دوران بعض یونیفارم کی دکانوں پر روزانہ اوسطاً 500 سے زیادہ گاہک آ رہے ہیں۔ دکان داروں کا کہنا ہے کہ مہینے کے آخر میں یہ تعداد مزید بڑھنے کی توقع ہے۔
کرامہ میں ایل سی ٹی یونیفارمز کے ترجمان نے بتایا:
’’ہمارے پاس روزانہ اوسطاً 500 یا اس سے زیادہ گاہک آتے ہیں۔ ایک بیچ کا اسٹاک تقریباً ختم ہو چکا ہے اور ہم نے نیا آرڈر دے دیا ہے۔ پچھلا ویک اینڈ بہت مصروف تھا، اور ہم توقع کر رہے ہیں کہ اگلے ہفتے اسکول کھلنے سے پہلے رش کئی گنا بڑھ جائے گا۔‘‘
یو اے ای میں اسکولز 25 اگست پیر کو تقریباً دو ماہ کی گرمیوں کی تعطیلات کے بعد دوبارہ کھلیں گے۔ وزارت تعلیم نے پچھلے مہینے اعلان کیا تھا کہ 2025-26 سے تعلیمی کیلنڈر کی ساخت میں تبدیلی کرتے ہوئے ملک بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولز کے آغاز، تینوں ٹرمز کے اختتام اور وقفوں کی تاریخیں یکساں ہوں گی۔
اس سال پہلے سے زیادہ مصروفی
ترجمان کے مطابق اس سال ماضی کے برعکس گرمیوں میں مسلسل والدین کا آنا جاری رہا۔ ’’عام طور پر ہمارا رش اگست کے وسط سے شروع ہوتا ہے، لیکن اس سال جولائی کے دوسرے ہفتے سے ہی کچھ والدین آ گئے تاکہ روانگی سے پہلے خریداری مکمل کر لیں۔‘‘
20 منٹ کا انتظار
ابوظبی کے رہائشی عالم ندیر نے بتایا کہ انہوں نے ایک یونیفارم اسٹور میں 20 منٹ سے زیادہ انتظار کیا۔ اسٹور کی پالیسی کے مطابق آن لائن اپائنٹمنٹ لینا ضروری تھا لیکن چونکہ رش کم تھا، انہیں ٹوکن نمبر اور بجزر دے دیا گیا۔ ’’ہم نے مال میں چکر لگایا اور 30 منٹ سے بھی کم وقت میں بجزر بج گیا۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ خوش قسمت رہے کیونکہ اگلے چند دنوں میں رش کئی گنا بڑھنے والا تھا۔ ’’میں جانتا ہوں لوگ پچھلے سال گھنٹوں انتظار کرتے رہے، اس لیے میں نے جلدی خریداری مکمل کر لی۔‘‘
سیکڑوں گاہک روزانہ
بمبینو یونیفارم اسٹور، جس کی شاخیں شارجہ، راس الخیمہ، العین اور فجیرہ میں ہیں، میں بھی حالات کچھ ایسے ہی ہیں۔ شارجہ کی شاخ پر روزانہ سیکڑوں گاہک آ رہے ہیں۔ اسٹور کی نمائندہ نے بتایا کہ چونکہ ان کے پاس تقریباً تمام اسکولوں کی یونیفارمز دستیاب ہیں، والدین ان کو ترجیح دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگلے دو ہفتوں میں رش میں مزید اضافہ اور لمبی قطاروں کا امکان ہے۔ ’’ہر سال یہی ہوتا ہے، جیسے ہی اسکول کھلنے کی تاریخ قریب آتی ہے، والدین کی تعداد کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔






