
خلیج اردو
ایک سینئر تجارتی اور سرمایہ کاری کے عہدیدار نے بھارت کی تازہ روپے میں تجارت سے متعلق اصلاحات کو ’’گیم چینجر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے متحدہ عرب امارات اور بھارت کے معاشی تعلقات مزید گہرے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر تیل تجارت 2030 سے پہلے ہی 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی، جو چند سال پہلے تک ناقابلِ یقین سمجھا جاتا تھا۔
بھارت کے ریزرو بینک (RBI) نے 5 اگست کو اعلان کیا کہ بھارتی کیٹیگری ون مجاز ڈیلر بینک اب غیر ملکی بینکوں کے لیے اسپیشل روپے ووسٹرو اکاؤنٹ (SRVA) بغیر پیشگی منظوری کھول سکیں گے، بشرطیکہ دونوں کے درمیان پہلے سے کارسپانڈنٹ تعلق موجود ہو۔ اس سے قبل اس کے لیے لازمی طور پر مرکزی بینک کی اجازت درکار تھی۔
اسپیشل روپے ووسٹرو اکاؤنٹ کیا ہے؟
یہ ایک خصوصی اکاؤنٹ ہے جس میں غیر ملکی بینک بھارتی روپے رکھ سکتے ہیں اور بھارت کے ساتھ تجارتی ادائیگیاں کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق نئی پالیسی روپے میں براہِ راست ادائیگی کو ممکن بنائے گی، لین دین کی لاگت کم کرے گی اور ادائیگی کا وقت تیز کرے گی۔
امارات میں مقیم بھارتی کاروباری شخصیات نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
-
محمد حارس، چیئرمین الہند گروپ، نے کہا کہ اس اقدام سے بھارت اور امارات کے درمیان لین دین آسان اور تیز ہوگا۔
-
روہت بچانی، سی ای او مرلن گروپ، کے مطابق اس سے تجارتی راہداری میں کارکردگی اور لچک پیدا ہوگی۔
-
ریاض کمال ایوب، منیجنگ ڈائریکٹر ریاض گروپ، نے کہا کہ بغیر پیشگی منظوری روپے میں ادائیگی بھارتی برآمد کنندگان کو زیادہ مسابقتی بنائے گی۔
-
جان تھامس، جے وی تھامسن چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس، کا کہنا تھا کہ یہ اصول بھارتی کمپنیوں کو، جو حالیہ 50 فیصد امریکی ٹیرف سے متاثر ہوئی ہیں، خلیجی ممالک میں پیداوار منتقل کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
امارات میں اس وقت دبئی چیمبر آف کامرس کے ساتھ رجسٹرڈ بھارتی کمپنیوں کی تعداد 75 ہزار سے زائد ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی، سی ای پی اے فوائد اور کم ٹیرف کے باعث یہ تعداد مزید بڑھے گی۔
امارات بھارت کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ 2023-24 میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 83.6 ارب ڈالر تک پہنچی، جس میں 65 ارب ڈالر غیر تیل تجارت شامل تھی۔ 2022 میں دستخط شدہ جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (CEPA) نے بیشتر اشیا پر محصولات کم یا ختم کر دیے ہیں، اور امارات کے فری زونز سے دوبارہ برآمدات پر بھی ڈیوٹی سے بچا جا سکتا ہے۔
بینکاری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان ادائیگی کے نظام، کارڈ نیٹ ورکس اور پیغام رسانی کے ڈھانچے کو ضم کرنا ضروری ہوگا۔






