
(خلیج اردو ) متحدہ عرب امارات میں سروس فنڈز کی ادائیگی سے انکار ممکن نہیں کیونکہ عدالت کے پاس یہ اختیار ہے کہ کمپنی سروس فنڈز کی عدم ادائیگی پر سخت ترین فیصلہ سنا سکتی ہے جس میں کمپنی کے اثاثہ جات فروخت کرکے مزدوروں کو رقم کہ ادائیگی شامل ہے۔
اگر کمپنی میں کام کرتے ہوئے گیارہ سال ہوگئے ہو اور کچھ وجوہات کی بنا پر آپ استفاء دینے پر مجبور ہو تو قانون مزدور کو یہ حق دیتی ہے کہ وفاقی قانون نمبر (8) 1980 ریگولیٹنگ ایمپلائمنٹ ریلیشن کے تحت سروس فنڈ حصول کیا جائے ۔
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات میں ایک سال مسلسل کام کرنے کے بعد قانون یہ حق دیتا ہے کہ سروس فنڈ مختص کیا جائے اور مزدور کو اسکی تنخواہ کے حساب سے اضافی رقم دی جائے ۔
اگر کمپنی کسی وجہ سے تنخواہ اور سروس فنڈ جاری کرنے سے انکار کرتی ہے تو ایمپلائمنٹ قانون آرٹیکل 4 کے تحت عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں ۔ اگر عدالت مزدور کے حق میں فیصلہ کرتی ہے اور کمپنی پھر بھی سروس فنڈز اور تنخواہ کی ادائیگی کو ممکن نہیں بناتی تو عدالت کمپنی کے اثاثہ جات فروخت کر کے مزدوروں کو رقم کی ادائیگی ممکن بنانے کا حق رکھتی ہے ۔







