متحدہ عرب امارات

کورونا وائرس کے بعد معمول کی زندگی گزاری جائے یا محتاط رہیں؟ خلیج ٹائمز کے مکالمے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے لوگوں کی آراء

خلیج اردو
06 ستمبر 2020
دبئی: متحدہ عرب امارات میں 200 سے زائد ممالک کے شہری رہتے ہیں۔ یہاں کے لوگ برابر کے شہری تصور کیے جاتے ہیں اور ان کو اپنے رائے دینے کی مکمل آزادی ہے۔

خلیج ٹائمز نے ایک منفرد اور صارف دوست انلائن ڈبیٹ کا آغاز کیا ہے جس میں ہفتہ وار کالم میں شہری اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔

اس ہفتے مکالمے کا محور یہ تھا کہ چونکہ کورونا وائرس کے بعد معمولات زندگی واپس لوٹ رہی ہیں ایسے میں کورونا کو لے کر انتہائی زیادہ محتطاط رہا جائے یا نارمل زندگی گزاری جائے تاکہ کورونا کا نفسیاتی اثر کم سے کم ہو۔

اس حوالے سے پبلک مقامات میں سماجی فاصلے رکھتے ہوئے فیس ماسک اور سینٹائزیشن کا استعمال تو ضروری ہے لیکن محتطاط رہنے کے نام پر کورونا کے نفسیاتی اثر سے کیسے محفوظ رہا جائے یہ مکاملے کا مدعا تھا۔

مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی رائے کا اظہار کیا جو ہم قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔

پبلک ریلیشن کے اکاؤنٹ منیجر نکولا الیگارڈ کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی حساس ہے۔ یہ وقت ریلکس کرنے کا نہیں۔ کورونا کے متائثرین کی تعداد روزانہ بڑھتی جارہی ہے اور ابھی تک کوئی ویکسین تیار نہیں ہوئی۔ وائرس سے لڑنے کا یہی بہتر حل ہے کہ محتاط رہا جائے۔

سیلز منیجر آصف شعیب راجہ کا کہنا ہے کہ تکلیف اٹھانے سے بہتر ہے کہ احتیاط کی جائے۔ جب سے کورونا وائرس پھیلا ہے میں اور میری فیملی کورونا ایس او پیز پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔ ہمارا پاس واحد حل ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا ہے۔

مکالمے میں شریک وہ افراد جن کا ماننا ہے کہ بند دروزوں کے پھیچے زندگی نہیں گزاری جا سکتی ہے۔ کورونا حقیقت سہی مگر زندگی کا پہیہ چلنا چاہیے اور محتاط رہنے کا مطلب ہر گزیہ نہیں کہ زندگی جینا ہی چھوڑ دی جائے۔ ان افرادکی رائے کچھ یوں تھی۔

مجمنٹ کنسلٹنٹ جیان بالاکرشناکا کہنا ہے کہ زندگی ڈر کا نام ہر گز نہیں۔ ہمیں نارمل زندگی کی طرف لوٹنا ہوگا۔ یہ وائرس ہمیں مجبور کررہا ہے کہ ہم نئی زندگی کی شروعات کریں۔ احتیاط کے ساتھ ساتھ غیر ضروری ذہنی دباؤ سے بچا جا سکتا ہے۔ اگر یہ مشکل ہے تو اس مشکل میں مواقع بھی ہیں۔ ہم زندگی کو آسان بنا سکتے ہیں اور بہت سے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ٹیلی کام انجینئر جیتھوروفل رمبویانگ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس اب کہیں جانے والا نہیں ، زندگی کورونا کے سنگ رہ کر گزارنی ہے، ہمیں زیادہ گھبرا کر اپنی زندگی مشکل بنانے کے بجائے ایس او پیز پر عمل کرکے خود کو محفوط بنانا چاہیئے۔ معمولات زندگی بحال ہورہی ہیں، مذہبی عبادت گاہیں ، پارک س کھل رہے ہیں، کاروباری مراکز آباد ہو گئے ہیں۔ ہمارے کاروبار پہلے سے تباہ ہو چکے ہیں اگر احتیاط کے نام پر معمولات زندگی بحال نہیں کیں تو معیشت اور سماج کو بہت نقصان اٹھانا پڑے گا۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button