خلیج اردو آن لائن: جمعرات کے روز ایک سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ سماجی اجتماعات اور ذاتی حفاظت کے لیے اقدامات نہ کرنا متحدہ عرب امارات میں کورونا کے کیسز میں حالیہ اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔
نیشنل ایمرجنسی کرائسز اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان ڈاکٹر طاہر المیری کا کہنا تھا کہ وبا کی شروعات سے ہی سماجی فاصلے، ماسک پہننے اور باربار ہاتھ دھونے کو وائرس سے بچواو کا محفوظ ترین ذریعہ بتایا جا رہا ہے۔ لیکن کچھ لوگ مطمئن ہو گئے ہیں اور دوبارہ سے بڑے اجتماعات میں اکٹھے ہو رہے ہیں جس سے وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
انہوں نے نجی خبررساں ادارے دی نیشنل کو بتایا کہ "کمیونٹی کی آگاہی ضروری ہے اور حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ہر کوئی آگاہ ہے اور قواعد و ضوابط پر عمل کر رہا کے لیے سخت محنت کر رہی ہے۔ کیونکہ اس وبا سے نمٹںے کا یہی واحد راستہ ہے۔
انکا مزید کہنا تھا کہ” ہمیں یقنین کرنا ہوگا اور سجمھنا ہوگا کہ یہ ایک نئی لیکن نارمل صورتحال ہے اور جب تک ہم اس وبا کے خلاف جنگ نہیں جیت جاتے ہمیں اپنے اجتماعات اسمارٹ اپیلکشنز کے ذریعے کرنے ہیں ناکہ براہ راست مل کر۔ اور حفظان صحت کے اصولوں یعنی ہاتھ دھونےا ور ماسک پہننے کے اصولوں کو نظر انداز کرنے سے منفی اثر پڑ رہا ہے”۔
خیال رہے کہ جمعرات کے روز متحدہ عرب امارات میں 67 ہزار 821 کورونا ٹیسٹ کیے گئے جس میں 6 سو 14 نئے کیسز سامنے آئے۔ اتوار کے روز سامنے آنے والے کیسز کے مقابلے میں جمعرات کے روز کیسز میں 70 فیصد اضافہ ہوا۔
تاہم پچھلے سات دنوں میں یومیہ کیسز کی اوسط 520 کیسز ہے۔
اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کورونا ایس او پیز کی خلاف وزری کرنے والوں کے لیے جرمانوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ سماجی فاصلہ نہ رکھنے یا ماسک نہ پہننے کی صورت میں3 ہزار درہم جرمانہ ہوگا۔ جبکہ اجتماعات کی میزبانی کرنے والے پر 10 ہزار درہم جرمانہ جب کے ایسے کسی بھی اجتماع میں شرکت کرنے والوں پر فی کس 5 ہزار درہم جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
ڈاکٹر طاہر نے لوگوں کو ترغیب دی کہ وہ کورونا سے متعلق معلومات کے لیے حکومتی پلیٹ فارم Weqaya سے روجوع کریں۔
انکا مزید کہنا تھا کہ ابو ظہبی آنے والے تمام مسافروں کو 14 دن کے لیے گھر میںقرنطینہ کیا جائے گا۔
انکا کہنا تھا کہ” ابوظہبی پہنچنے پر مسافروں سے ایک ڈیکلریشن دسختط کروایا جاتا ہے۔ جس میں اپنی رہائش کے ملک اور جگہ سے متعلق بتاتے ہیں۔ انہیں فوری طور پر وہاں جانا ہے اور قرنطینہ ہونا ہے”۔
جب ان سے ابوظہبی میں سیاحت کے واپس آنے سے متعلق سوال کیا گیا تو المیری کا کہنا تھا کہ ہم سب سے پہلے مسافروں اور کیمونٹی کی صحت کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔
Source: The National







