خلیج اردو آن لائن:
اگر آُپ دبئی میں ویزٹ یا سیاحتی ویزے پر موجود ہیں اور آپ کا ویزا ختم ہونے والا ہے لیکن آپ یو اے ای سے باہر نہیں جا سکتے تو آپ بغیر یو اے ای چھوڑے نئے ویزٹ ویزے کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔
اب متحدہ عرب امارات چھوڑے بغیر ہی آپ اپنا نیا سیاحتی یا ویزٹ ویزا حاصل کر سکتے ہیں، جس کے لیے آپ کو درج ذیل مراحل سے گزرنا ہوگا:
- اگر آپ سیاحتی یا ویزٹ ویزا ختم ہونے والا ہے تو آپ کو امارات میں اس ٹریول ایجنسی سے رابطہ کرنا ہوگا جس نے آپ کے لیے پہلا ویزٹ یا سیاحتی ویزا حاصل کیا تھا۔
- تاہم، یہ کا ویزا ختم نے سے کم از کم 3 سے 5 دن پہلے کیا جانا چاہیے۔
- جب آپ اپنی ٹریول ایجنسی سے رابطہ کر لیں گے تو عموما ایسا ہوتا ہے کہ آپکی ٹریول ایجنسی آپ سے ضروری دستاویزات اور فیس منگوا کر آپ کے لیے ویزا کا عمل مکمل کروا دیں گے۔
مزید برآں آُپ 30 دن کے یا 90 دن کے سیاحتی یا ویزٹ ویزے کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ اور ویزے کی فیس امارات پر اور ویزے کے دورانیہ پر منحصر ہوگی۔
یو اے ای کے اندر رہتے ہوئے ہی نیا ویزٹ یا سیاحتی حاصل کرنے کے لیے درج ذیل ڈاکومنٹس درکار ہوں گے:
- پاسپورٹ کی کاپی، جو کے کم از کم چھ تک ویلیڈ ہونا چاہیے
- پاسپورٹ سائز فوٹو گراف
- پرانے ویزٹ یا سیاحتی ویزے کی کاپی
- جبکہ یو اے ای پہنچ کر ویزا حاصل کرنے والے افراد کو نیا ویزا حاصل کرنے کے لیے صرف پاسپورٹ کی کاپی اور ایک تصویر درکار ہوگی
- اور اگر آپ ویزا آپ کے کسی رشتہ دار یا دوست کی جانب سے اپلائی کیا گیا تھا تو اسے انہیں اپنے رہائشی ویزے کی کاپی جمع کروانی ہوگی
درج بالا دستاویزا جمع کروانے کے بعد آپ کو نیا ویزا جاری کر دیا جائے گا۔ اور یہ عمل نہایت آسان ہے، اس عمل کو ان آؤٹ پراسیس بھی کہتے ہیں۔
اس عمل میں نئے ویزے کی فیس اور ویزے کا اسٹیٹس تبدیل کروانے کی فیس شامل ہوگی، جو کہ مختلف امارات کے لیے درج ذیل ہے:
ابوظہبی، شارجہ، عجمان، راس الخیمہ، ام القواین، اور فجیرہ میں نیا ویزا حاصل کرنے فیس درج ذیل ہے:
ملک کے اندر رہتے ہوئے ہی ایک ماہ کے لیے سیاحتی ویزے حاصل کرنے کی فیس 11 سو درہم ہے جبکہ تین ماہ کے ویزے کی فیس 1450 درہم ہے۔
دبئی:
یو اے ای کے اندر رہتے ہوئے ہی ایک ماہ کے لیے دبئی کا سیاحتی ویزا حاصل کرنے کی فیس 1800 درہم ہے جبکہ 3 ماہ کے ویزے کی فیس 2100 درہم ہے۔
اس تمام عمل میں 3 سے 4 دن کا وقت لگ سکتا ہے۔ تاہم اگر آپ کو یہ پراسیس جلد کروانا ہے تو پھر ٹریول ایجنٹ زیادہ فیس وصول کریں گے۔
Source: Gulf News







