خلیج اردو
09 جنوری 2021
دبئی : متحدہ عرب امارات کورونا ویکسینشن کے حوالے سے اپنے اہداف کے حصول کے قریب پہنچنے میں کوشاں ہے۔ اس حوالے سے ایک ملین کے قریب ویکسین لگائے گئے ہیں۔ وزارت صحت نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ اب تک 53859 ویکسینشن گزشتہ 24 گھنٹوں میں دی گئیں ہیں۔ اس سے لگائی جانے والی ٹوٹل ویکسینشن 941556 ہو گئی ہے۔
وزارت صحت کے حکام اس مومنٹم کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جو رفتار ویکسین لگانے کی حاصل ہوئی ہے اسے نہ صرف برقرار رکھنا ہے بلکہ اس میں مزید اضافہ بھی مقصود ہے۔ امارات کے حکام دو طرح کے ویکسین لگانے کا عمل جاری کیے ہوئے ہیں۔ پورے ملک میں چینی کمپنی سینوفارم کی ویکسینشن لگائی جارہی ہیں بلکہ دبئی میں پیفزر بائیوٹیک ویکسنشن کا عمل جاری ہے۔
متحدہ عرب امارات وہ ملک ہے جس نے اسرائیل کے بعد ایک مثال قائم کی ہے۔ ورلڈ ڈیٹا ویب سائیٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات ویکسین ایڈمنسٹریشن کے معاملے میں دوسرے نمبر پر فعال ملک ہے۔ یہ ڈیٹا 7 جنوری کو اپلوڈ ہوا ہے جس کے مطابق متحدہ عرب امارات نے 100 میں سے 9.52 ویکسینشن دی ہوئیں ہیں۔
ایسے میں جب ہرڈ ایمونٹی کیلئے ملک کوشاں ہے اور اس کیلئے ویکسیشن کا عمل جاری ہے ، حکام نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے حفاظتی تدابیر میں کمی نہ لائے۔یہ وارننگ اس کے بعد سے دی گئی ہے جب متحدہ عرب امارات میں 2950 کیسز سامنے آئے ہیں۔ اس سے قبل ایک دن میں 2988 کیسز سامنے آئے تھے جو کہ بہت زیادہ ہیں۔
ڈاکٹروں نے نجی شعبوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہاں احتیطاطی تدابیر اختیار نہیں کیں جاتیں جو اس اچانک اضافہ کیلئے ذمہ دار ہیں۔ دبئی کے میڈ کیئر اسپتال الصفا میں انٹرنل میڈیسن کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر سالون جیورج نے کہا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کورونا کیسز میں اضافہ نجی شعبوں کی وجہ سے ہے۔ جبکہ لوگوں نے نئے سال پر جشن تو منایا لیکن احتیطاطی تدابیر اختیار کرنے میں کوتاہی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے افراد برطانیہ سے آرہے ہیں اور ممکنہ طور پر ان میں نئی قسم پائی جاتی ہو۔
برجیس اسپیشیالٹی اسپتال شارجہ میں میڈیکل اسپیشلسٹ ڈاکٹر مائیسا السلیمان نے کہا ہے کہ وباء ابھی ختم نہیں ہوئی اسی لیے عوام ماسک پہنیں اور ایک دوسرے سے سماجی فاصلہ رکھیں۔ اس کے علاوہ غیر ضروری اجتماعات سے پرہیز کیا جائے گا۔
ڈاکٹر مائیسا نے بتایا کہ ماسک پہننا وباء کے تدارک کیلئے لازمی ہے۔ اگر ہم نے وائرس کو مزید پھیلنے سے بچانا ہے تو ہمیں کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے تمام تر احتیطاطی تدابیر اختیار کرنے ہیں۔
Source : Khaleej Times






