
خلیج اردو
11 ستمبر 2020
ابوظبہی: ابوظبہی میں سال 2019 کے دوران خطرناک ڈارائیونگ سے 894 ٹریفک حادثات ہوئے جس میں 66 افراد ہلاک ہوئے۔
پولیس کے مطابق حادثات کی وجہ ڈرائیونگ میں بے احتیطاطی ہے۔ سڑک پر ریس لگانے، لال بتی پر نہ رکنا اور غیر ہموار ڈرائیونگ ان حادثات کی بڑی وجہ ہے۔
ابوظہی پولیس میں سنٹرل آپریشنز سیکٹر کے ڈائریکٹر برگیڈیئر سہیل سعید آل خلیلی کا کہنا ہے کہ 2019 میں ٹریفک کی ان خلاف ورزیوں سے 716 کم خطرناک اور 543 معمولی نوعیت کے حادثات بھی ہوئے۔
انہی اعدادوشمار کی بنا پر ابوظبہی پولیس نے سخت جرمانےاور سزائے عائد کیے ہیں۔
بدھ کے روز حکام نے ٹریفک کا نیا قانون لاگو کیا ہے جس کے مطابق آپ کی گاڑی ضبط کی جا سکتی ہے۔ اگر آپ کی گاڑی پولیس وین سے ٹکرا جائے یا غیر قانونی کار ریس لگائے یا غیر قانونی نمبر پلیٹ لگائے تو آپ کی گاڑی کو ضبط کیا جا سکتا اور انہی خلاف ورزیوں پر 50 ہزار درہم تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔
ان قوانین کے مطابق 10 سالہ بچے کو فرنٹ سیٹ پر بٹھانا ، تیز رفتاری کے باعث حادثے کا شکار ہونا، پیدل چلنے والوں کو راستہ نہ دینا جیسی خلاف ورزیوں پرگاڑی ضبط کی جائے گی اور 5 ہزار درہم تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے اس کے علاوہ اگر آپ پر عائد جرمانے کی رقم 7 ہزار درہم تک پہنچ جاتی ہے تو آپ کی گاڑی کو قبضے میں لیا جا سکتا ہے۔
برگیڈیئر خلیلی کے مطابق ان فیصلوں کو نافذ کرنے کا مقصد ڈرائیوروں میں غیرزمہ دارانہ رویہ ختم کرنا اور سڑک کو محفوظ بنانا مقصود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ضبط شدہ گاڑیوں کی نیلامی کیلئے بولی لگائی جائے گی۔ اگر اس سے حاصل ہونے والی رقم عائد جرمانے سے کم ہو تو بقیہ رقم ڈرائیور کے ٹریفک فائل میں جمع کی جائے گی۔
برگیڈیئر آل خلیلی نے واضح کیا کہ مذکورہ قانون صرف ابوظبہی میں لاگو ہو گا اور یہ فیصلہ ٹریفک کے وفاقی قانون کے خلاف بالکل بھی نہیں۔
Source: Khaleej Times







