
خلیج اردو
دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) نے اکیڈمک سٹی میں جاری دبئی میٹرو بلیو لائن کے تعمیراتی کام کے باعث ٹریفک کی نئی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔
پروجیکٹ کی تکمیل 9 ستمبر 2029 کو متوقع ہے، اور اس نئی میٹرو لائن سے رہائشی علاقوں کو دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے صرف 20 منٹ میں جوڑا جائے گا۔ اس سے ان راستوں پر ٹریفک کا دباؤ 20 فیصد تک کم ہونے کی توقع ہے جہاں یہ لائن سروس دے گی۔ میٹرو لائن دبئی سلیکون اویسس جیسے اہم شہری مرکز سے بھی منسلک ہو گی۔
آر ٹی اے کے مطابق، اکیڈمک سٹی میں جرمن انٹرنیشنل اسکول کے سامنے 63 نمبر اسٹریٹ کو دونوں اطراف سے بند کر دیا جائے گا، تاہم اسکول کے لیے متبادل داخلی و خارجی راستے فراہم کیے جائیں گے۔ شہریوں کو نئی ٹریفک اسکیم کے مطابق سفری منصوبہ بندی کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس سے قبل مردف میں بھی اسی منصوبے کے تحت ٹریفک تبدیلیاں کی جا چکی ہیں۔
بلیو لائن منصوبہ
دبئی میٹرو کے اس توسیعی منصوبے کی لمبائی 30 کلومیٹر ہے جس میں 14 اسٹیشنز شامل ہوں گے۔ منصوبے میں 28 ٹرینیں چلائی جائیں گی، اور مکمل نیٹ ورک 131 کلومیٹر اور 78 اسٹیشنز تک پہنچ جائے گا۔
20.5 ارب درہم لاگت کا یہ منصوبہ 2030 تک سالانہ دو لاکھ مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھے گا، جو 2040 تک 3 لاکھ 20 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ اس نیٹ ورک سے گھنٹہ وار 46 ہزار مسافروں کی آمدورفت ممکن ہو گی اور اس سے سڑکوں پر ٹریفک کا بوجھ 20 فیصد کم ہونے کی امید ہے۔
نئی لائن مردف، الورقاء، انٹرنیشنل سٹی 1 اور 2، دبئی سلیکون اویسس، اکیڈمک سٹی، راس الخور انڈسٹریل ایریا، دبئی کریک ہاربر، اور دبئی فیسٹیول سٹی جیسے 9 اہم اضلاع کو آپس میں جوڑے گی۔ ان علاقوں میں دبئی 2040 اربن ماسٹر پلان کے مطابق 10 لاکھ سے زائد افراد کی رہائش متوقع ہے۔
اس روٹ پر سفر کا دورانیہ 10 سے 25 منٹ کے درمیان ہوگا۔
بلیو لائن میں 14 اسٹیشنز ہوں گے، جن میں 3 انٹرچینج اسٹیشنز شامل ہیں: گرین لائن پر کریک اسٹیشن (الجداف)، ریڈ لائن پر سینٹرپوائنٹ اسٹیشن (الراشدیہ)، اور بلیو لائن پر انٹرنیشنل سٹی 1 اسٹیشن۔ اس کے علاوہ دبئی کریک ہاربر پر ایک علامتی اسٹیشن بھی ہوگا۔ مجموعی طور پر نو اسٹیشنز بلند سطح پر اور پانچ زمین دوز ہوں گے۔







