
خلیج اردو
دبئی میں آدھی رات کے بعد ہونے والی سالک فری ٹرپس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سالک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، سال 2025 کی دوسری سہ ماہی میں 16.4 ملین فری ٹرپس ہوئیں، جو پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 46.8 فیصد زیادہ ہیں۔
یہ اضافہ اُس نئے ویری ایبل پرائسنگ سسٹم کے نفاذ کے بعد سامنے آیا ہے جو 31 جنوری 2025 سے لاگو ہوا۔ اس نظام کے تحت، رات 1 بجے سے صبح 6 بجے تک کسی بھی سالک گیٹ سے گزرنے پر کوئی ٹول فیس لاگو نہیں ہوتی۔ جبکہ صبح اور شام کے پیک آورز (6am–10am اور 4pm–8pm) میں فی ٹرپ 6 درہم، اور آف پیک آورز (10am–4pm اور 8pm–1am) میں 4 درہم مقرر ہیں۔
سالک کے مطابق، چارچ ایبل ٹرپس کی تعداد بھی بڑھ کر دوسری سہ ماہی میں 160.4 ملین ہو گئی، جو پہلی سہ ماہی کے 158 ملین کے مقابلے میں 1.6 فیصد زیادہ ہے۔ اس اضافے میں نئے متعارف کروائے گئے بزنس بے اور الصفہ ساؤتھ گیٹس نے اہم کردار ادا کیا۔
شہریوں کے سفر کے طریقے بدل گئے
نئے نظام نے شہریوں کی روزمرہ زندگی اور ٹریول پلاننگ پر بھی اثر ڈالا ہے۔
امیر نیاز، جو شارجہ کے رہائشی اور دبئی میں نائٹ شفٹ میں کام کرتے ہیں، نے بتایا:
"کبھی کبھار اگر میں جلدی فارغ بھی ہو جاؤں تو 15 سے 20 منٹ انتظار کر لیتا ہوں تاکہ رات 1 بجے کے بعد سالک گیٹ کراس کروں۔ اس طرح روزانہ تقریباً 8 درہم کی بچت ہو جاتی ہے اور ٹریفک بھی کم ہوتا ہے۔”
کئی ڈرائیورز اب اپنی کاریں الجداف جیسے مقامات پر پارک کرکے ٹول ریٹ کے کم ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ کچھ افراد نے تو اپنے سوشل پلانز بھی ایسے اوقات میں ترتیب دینا شروع کر دیے ہیں تاکہ پیٹرول اور ٹول دونوں پر بچت ہو سکے۔







