متحدہ عرب امارات

دبئی: صرف اسپیڈ لمٹ کم کرنا گاڑیوں کی رفتار کم کرنے کیلئے کافی نہیں، تحقیق

خلیج اُردو
دبئی: میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے سینسیبل سٹی لیب کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ صرف اسپیڈ لمٹ کم کرنے سے ڈرائیورز کی رفتار میں نمایاں کمی نہیں آتی، بلکہ سڑکوں کا ڈیزائن رفتار پر بڑا اثر ڈالتا ہے۔ تحقیق کے مطابق دبئی کے پرانے علاقے، جیسے دیرا اور بر دبئی، اپنی گنجان آبادی اور تنگ سڑکوں کے باعث خود بخود ٹریفک کی رفتار کم کر دیتے ہیں، جبکہ نئے علاقوں کی کشادہ اور سیدھی سڑکیں تیز ڈرائیونگ کو بڑھاوا دیتی ہیں۔

تحقیق میں ملان، ایمسٹرڈیم اور دبئی میں لاکھوں تصاویر اور گاڑیوں کی نقل و حرکت کے ڈیٹا کا مصنوعی ذہانت سے تجزیہ کیا گیا۔ نتائج میں واضح ہوا کہ سڑک کا ڈیزائن اور سائن بورڈ مل کر ڈرائیورز کو اسپیڈ لمٹ پر عمل کرنے پر زیادہ مؤثر طریقے سے آمادہ کرتے ہیں۔

ایم آئی ٹی دبئی سینسیبل سٹی لیب کی سربراہ علاء الرضوان کے مطابق گنجان علاقوں جیسے دیرا میں پیدل چلنے والوں کی حفاظت بہتر بنانے اور سڑک کراسنگ کو محفوظ بنانے پر توجہ دی جا سکتی ہے، جبکہ نئے علاقوں میں لینز کو تنگ کرنا، سڑکوں کے کنارے درخت لگانا اور لمبی سیدھی لائنز کو توڑنا رفتار کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ 30 کلومیٹر فی گھنٹہ کے زون میں ڈرائیورز کی رفتار، 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کے زون کے مقابلے میں، صرف 2 سے 3 کلومیٹر فی گھنٹہ کم ہوئی جب تک کہ سڑک کا ڈیزائن خود رفتار کم کرنے کے لیے موزوں نہ ہو۔ تنگ اور بند گلیاں قدرتی طور پر رفتار کم کرتی ہیں، جبکہ کھلی اور لمبی سڑکیں رفتار بڑھاتی ہیں۔

ایم آئی ٹی کی مارٹینا مازارویلو نے کہا کہ یہ یو اے ای میں اپنی نوعیت کا پہلا مطالعہ ہے، اور دبئی فیوچر فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر خطے کے شہروں کیلئے ایسے اوزار تیار کیے جا رہے ہیں جو شدید موسمی حالات میں بھی پیدل چلنے کے قابل سڑکوں کے ڈیزائن میں مدد کریں گے۔

سینسیبل سٹی لیب کے ڈائریکٹر کارلو راٹی نے کہا کہ تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ صرف اسپیڈ سائن کا نمبر بدلنا کافی نہیں، بلکہ ایسی سڑکیں بنانی ہوں گی جو ڈرائیورز کو فطری طور پر آہستہ چلانے پر مجبور کریں، اور اب مصنوعی ذہانت کی بدولت یہ عمل مقداری انداز میں ممکن ہو گیا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button