متحدہ عرب امارات

خاتون کو سوشل میڈیا پر بلیک میل کرنے کی کوشش کرنے والے ملزم کو پولیس نے چوبیس گھنٹوں میں گرفتار کر لیا

خلیج اردو
6 اکتوبر 2021
دبئی : دبئی پولیس نے ایک شخص کو اس جرم میں گرفتار کیا ہے کہ وہ ایک نوجوان لڑکی کو سوشل میڈیا پر بلیک میل کررہا تھا۔ حکام کے مطابق رپورٹ درج ہونے کے چوبیس گھنٹوں کے بعد اسے گرفتار کیا گیا۔

بریگیڈیئر بر دبئی پولیس اسٹیشن کے ڈائریکٹر اور پولیس اسٹیشنز ڈائریکٹر کونسل کے چیئرمین عبداللہ خادم بن سورور کا کہنا ہے کہ فورس کو سمارٹ پولیس اسٹیشن (ایس پی ایس) کے ذریعے شکایت موصول ہوئی تھی۔

ملزم نے مبینہ طور پر تصاویر اور ویڈیوز کا استعمال کرکے لڑکی کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ دبئی پولیس نے بروقت مداخلت کی اور رپورٹ موصول ہونے کے 24 گھنٹوں کے اندر اس شخص کو گرفتار کرلیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے استحصال اور بلیک میلنگ جرائم کی ایک ابھرتی ہوئی شکل ہے جہاں مجرم نجی تصاویر ، ویڈیوز اور خفیہ معلومات شائع کرنے کی دھمکی دیتے ہیں اور بدلے میں رقم کا مطالبہ کرتے ہیں۔

بور دبئی پولیس استیشن کے ڈائریکٹر نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس حوالے سے خبردار کریں اور انہیں آگاہی فراہم کریں کہ وہ اجنبی افراد کے ساتھ سوشل میڈیا پر دوستیوں سے باز رہیں۔

انہوں نے بتایا کہ والدین اپنے بچوں کو سوشل میڈیا پر اپنی تصایور اور معلومات شیئر کرنے سے باز رکھیں۔ کسی الیکٹرانک پلیٹ فارم ، گیمز یا کسی بھی سوشل میڈیا اپلیکیشن یا ویب سائیٹ پر اگر وہ کسی کے دھوکے میں آجائیں تو والدین کو اعتماد میں لے۔

برگیڈیئر بن سروز نے وضاحت کی کہ یہ افراد مختلف طریقے استعمال کرکے اپنے شکار کو لالچ دیتے ہیں۔ وہ جعلی اکاؤنٹس استعمال کرتے ہیں جس سے وہ لوگوں کی نجی زندگی کی تصاویر اور ویڈیوز حاصل کرکے پھر بعد میں ان کو بلیک میل کرتے ہیں۔

حکام نے عوام سے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے چوکنا رہیں اور ذاتی معلومات ، تصایروں ، ویڈیوز کا کسی سے تبادلہ نہ کریں۔

پولیس نے سوشل میڈیا صارفین سے کہا ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے کسی مشکوک ویب سائیٹ یا لنک کو نہ کھولیں۔ برگیڈیئر بن سورو نے تمام شہریوں اور رہائشیوں سے کہا ہے کہ وہ کوئی بھی سائبرکرائم کا کیس www.ecrime.ae پر رپورٹ کریں۔

شکایت کنندگان سمارٹ پولیس اسٹیشن ( ایس پی ایس ) کی مدد لے سکتے ہیں یا ٹول فری نمبر 901 پر کال کر سکتے ہیں۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button