
خلیج اردو
6 اکتوبر 2021
ماسکو : روس نے منگل کے روز فیس بک کمپنی پر دباؤ ڈالا ہے کہ روس کی جانب سے ممنوعہ مواد کے ہٹائے جانے کی مسلسل درخواست کے باوجود اسے نظر انداز کرنے پاداش میں ان پر بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
ملک میں موجود میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی روکومندزور نے کہا انہوں نے امریکی سوشل میڈیا اپلیکیشن فیس بک پر جرمانہ لگانے کیلئے نئے پروٹوکول وضح کیے ہیں کیونکہ فیس بک اور روس وہ مواد نہیں ہتا رہا جو ان کے شہریوں کیلئے خطرناک ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جو جرمانہ ہم عائد کریں گے وہ فیس بک کے سالانہ آمدنی کا پانچ سے دس فیصد بنے گا۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سالانہ آمدن سے مراد صرف روس میں فیس بک کی کمائی ہے یا پوری دنیا میں۔
ویدوموستی بزنس ڈیلے کے مطابق روس میں فیس بک سالانہ دس بیلین روبیل کماتا ہے۔
روکومندزور نے کہا ہے کہ عدالت فیصلہ کرے گی کہ فیس بک سے متعلق سماعت کب کی جائے۔ اس بات کا فیصلہ بھی عدالت کرے گی کہ جرمانہ کتنا لگایا جائے۔
روس متواتر انٹرنیٹ کے مختلف پلیٹ فارم پر جرمانہ لگاتا آیا ہے جب وہ ان مواد کو نہ ہٹائے جو روس میں بین کر دیئے گئے ہیں۔ جیسے پورنوگرافک مواد اور وہ پوسٹ جو منشیات اور خودکشی کو تحریک دیتے ہوں۔
روسی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق روس نے پہلے ہی فیس بک کو 90 ملین روبل جرمانہ کیا ہے جس میں روس کی جانب سے بند کیے جانے والا مواد نہ ہٹانا بھی شامل ہے
روس اس سال بھی امریکہ میں قائم ٹیکنالوجی کمپنیوں پر کنٹرول سخت کر رہا ہے اور ان پر ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام لگا رہا ہے۔
جنوری میں روس نے مطالبہ کیا تھا کہ سوشل نیٹ ورکس نے روسیوں کو جیلوں میں بند کریملن کے نقاد الیکسی نوالنی کی حمایت میں احتجاجی مظاہروں میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے ان پوسٹوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جو کہ نابالغوں کو شرکت سے روکنے کی آڑ میں تھا۔
روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے بھی مختلف کمپینوں کے اثررسوخ میں اضافے کو خطرناک قرار دیتے ہوئے اسے خودمختار ریاست میں مداخلت قرار دیا ہے۔
پچھلے مہینے حکام نے امریکی سوشل میڈیا کمپنیوں کو پارلیمانی سیاست انتخابات میں مداخلت کا الزام لگا کر ماسکو میں امریکہ کے سفیر کو طلب کیا تھا۔
Source : Khaleej Times







