متحدہ عرب امارات

دبئی میں پارکنگ فیس میں اضافہ، شہریوں کا پبلک ٹرانسپورٹ کی طرف رجحان، ماہانہ 500 درہم تک کی بچت

خلیج اردو
دبئی:دبئی میں پارکنگ فیس کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور متحرک ٹریفک سسٹم نے شہریوں کی سفری عادات بدل کر رکھ دی ہیں۔ دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی  کی جانب سے نافذ کیے گئے متحرک پارکنگ نظام کے بعد اب شہری اپنی گاڑیاں چھوڑ کر پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے کئی افراد ماہانہ 500 درہم تک کی بچت کر رہے ہیں۔

پارکنگ مہنگی، متبادل آسان
دیرا، الراس اور سٹی سینٹر جیسے مصروف علاقوں میں نجی پارکنگ کی قیمتوں اور آر ٹی اےکی فی گھنٹہ پارکنگ فیس میں اضافے کے بعد ڈرائیورز اب روزانہ گاڑی چلانے کو غیرمفید سمجھنے لگے ہیں۔ آر ٹی اے کے مطابق، اس متحرک نظام سے شہر میں ٹریفک کا بوجھ 2.3 فیصد کم ہوا ہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال 1 فیصد بڑھا ہے۔

کار پارکنگ کی جگہ میٹرو
الورقاء کے رہائشی اور الراس میں کاروبار کرنے والے حمید غنی کا کہنا ہے کہ وہ پہلے روزانہ اپنی گاڑی سے دفتر جاتے تھے لیکن اب روزانہ چار گھنٹے کی پارکنگ پر فی گھنٹہ 6 درہم دینا ممکن نہیں۔ انہوں نے رشیدیہ میٹرو اسٹیشن پر مفت پارکنگ کی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی گاڑی وہاں پارک کرنی شروع کر دی ہے اور پھر میٹرو کے ذریعے دفتر جاتے ہیں۔ حمید کے مطابق، وہ روزانہ 24 سے 36 درہم اور ماہانہ تقریباً 500 درہم کی بچت کر رہے ہیں۔

آسانی اور بچت ساتھ ساتھ
عجمان کے کیفے مالکان میں شامل رمیز کوٹامل بھی اب پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ دیرا مارکیٹ سے کاروباری سامان خریدنے کے لیے پہلے اپنی گاڑی سے آتے تھے لیکن اب بس اور میٹرو کے ذریعے آتے ہیں اور مال کی ترسیل کے لیے ڈیلیوری ایگریگیٹرز کی مدد لیتے ہیں۔ ان کے مطابق، اب وہ ایندھن، پارکنگ اور ٹریفک کے جھنجھٹ سے آزاد ہو گئے ہیں۔

گاڑی صرف ضرورت پر
الراس کے رہائشی وسیم احمد، جو دیرا سٹی سینٹر کے قریب کام کرتے ہیں، نے بھی اپنی گاڑی کا استعمال محدود کر دیا ہے۔ وہ گھر کے قریب نجی پارکنگ کی ماہانہ 400 درہم فیس سے بچنے کے لیے گاڑی دفتر کی پارکنگ میں رکھتے ہیں اور روزانہ میٹرو یا بس استعمال کرتے ہیں۔ وسیم کا کہنا ہے کہ اب وہ صرف رات کے وقت یا سامان لے جانے کے لیے گاڑی چلاتے ہیں اور ان کی زندگی میں سکون بھی آیا ہے۔

مالی بچت، ذہنی سکون
شہریوں کے مطابق، پارکنگ کے مسائل اور بڑھتے اخراجات کے پیش نظر پبلک ٹرانسپورٹ نہ صرف سستی بلکہ آرام دہ بھی ثابت ہو رہی ہے۔ عوامی ٹرانسپورٹ کا استعمال صرف ماحولیاتی فائدے کے لیے ہی نہیں، بلکہ مالی بچت کی وجہ سے بھی بڑھ رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button