
خلیج اردو
دبئی: حال ہی میں دبئی میں ٹریفک جرمانوں میں جعلی رعایت کے ایک فراڈ کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد ماہرین نے رہائشیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس پر پھیلنے والی غیر سرکاری پیشکشوں سے ہوشیار رہیں، خاص طور پر وہ پیشکشیں جو سرکاری خدمات سے متعلق ہوں۔
ڈیجیٹل رسک ایڈوائزر لیلا منصور نے کہا کہ یہ پیشکش بظاہر شارٹ کٹ لگتی ہے لیکن اصل میں جال ہوتی ہے۔ حالیہ واقعے میں ملزمان نے ٹریفک جرمانوں پر 70 فیصد تک رعایت کے نام پر لوگوں کو پھنسایا۔ وہ چوری شدہ کریڈٹ کارڈز کے ذریعے جرمانے ادا کرتے، سسٹم میں جرمانہ کلیئر ہونے کے بعد متاثرہ شخص سے آدھی رقم بطور فیس کیش میں وصول کرتے اور اسے رعایت کے طور پر پیش کرتے۔
یو اے ای کے سائبر سکیورٹی تجزیہ کار عمر قدور کے مطابق یہ طریقہ کار ایک بڑے رجحان کا حصہ ہے، جس میں جعلی لوگو، ہنگامی پیغامات اور واٹس ایپ یا انسٹاگرام جیسے پرائیویٹ چینلز استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ پیشکش کو مستند ظاہر کیا جا سکے۔ فراڈیے اکثر یہ تاثر دیتے ہیں کہ ان کا کوئی اندرونی رابطہ ہے جو خدمات کو تیز کر سکتا ہے، حالانکہ کوئی جائز سرکاری خدمت اس طریقے سے نہیں کی جاتی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فراڈ صرف ٹریفک جرمانوں تک محدود نہیں بلکہ ویزا رینیول، یوٹیلیٹی بلز، اماراتی آئی ڈی سروسز اور دیگر سرکاری کارروائیوں میں بھی یہی حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اکثر لوگوں کو واٹس ایپ، ٹیلیگرام یا انسٹاگرام کے ذریعے رابطہ کر کے رقم کے بدلے بغیر رسید کے خدمات فراہم کرنے کی پیشکش کی جاتی ہے۔
سائبر سکیورٹی کنسلٹنٹ سحر الشمسی نے کہا کہ ایسے فراڈ میں عام طور پر چھوٹی مگر اہم علامات نظر انداز کر دی جاتی ہیں، جیسے ہجے کی غلطیاں، غیر واضح کمپنی نام، رسید کا نہ ملنا اور فوری ادائیگی کا دباؤ۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ رہائشی ہمیشہ سرکاری پورٹلز جیسے یو اے ای پاس، وزارتوں کی ایپس یا تصدیق شدہ ویب سائٹس سے ہی ادائیگیاں کریں، اور کسی بھی غیر سرکاری یا بیک ڈور پیشکش کو فوراً رپورٹ کریں۔






