
خلیج اردو
شارجہ: دبئی میں گنجائش سے زیادہ رہائش گاہوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد دبئی سے شارجہ منتقل ہونے والے کئی رہائشی اب پارٹیشن اور بیڈ اسپیس کے کرایوں میں نمایاں اضافے کا سامنا کر رہے ہیں، کچھ کے مطابق پچھلے دو مہینوں میں قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔
کرایہ داروں نے بتایا کہ النہدہ، التعاون اور القاسمیہ جیسے علاقوں میں شیئرڈ رہائش گاہوں کے کرایوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد دبئی سے منتقلی کے باوجود ان کے اخراجات میں کوئی کمی نہیں آئی۔ محمد رفی، جو دبئی کے ایک مال میں سیلز ایگزیکٹو ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ النہدہ شارجہ اس امید پر منتقل ہوئے کہ کرایہ کم ہوگا، لیکن اب یہاں بھی انہیں تقریباً وہی کرایہ دینا پڑ رہا ہے جو دبئی میں تھا۔ دبئی میں وہ 1,200 درہم ماہانہ بیڈ اسپیس کے لیے ادا کرتے تھے، جبکہ شارجہ میں اب 1,100 درہم ادا کر رہے ہیں اور ساتھ میں سفر کا وقت بھی بڑھ گیا ہے۔
دبئی میں غیر قانونی پارٹیشنز کے خلاف کارروائی کے بعد شارجہ میں کرایوں کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر دبئی کے قریب کے علاقوں جیسے النہدہ میں، جس کے نتیجے میں قانونی رہائش گاہوں کے کرایوں میں 10 سے 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کئی کشادہ فلیٹس اب صرف سنگل فیملیز یا انفرادی کرایہ داروں کو دیے جا رہے ہیں، جس سے کرایہ داری کے حالات بدل گئے ہیں۔
القاسمیہ میں مقیم آفتاب کا کہنا ہے کہ دبئی چھوڑنے کے بعد ان کے بیڈ اسپیس کا کرایہ 800-900 درہم سے بڑھ کر 1,000 سے 1,200 درہم تک پہنچ گیا ہے، اور بعض مالکان تین ماہ کا کرایہ ایڈوانس مانگ رہے ہیں۔ سپر مارکیٹ کیشئر میری جوز، جو التعاون میں رہتی ہیں، نے بتایا کہ ان کے کمرے کا کرایہ 1,800 درہم سے بڑھا کر 2,200 درہم کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ان کے پاس کھانے کے اخراجات کے بعد کوئی بچت نہیں رہتی۔
رہائشیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شارجہ میں پارٹیشن کرایوں پر ضابطہ بنایا جائے تاکہ استحصال اور گنجائش سے زیادہ رہائش سے بچا جا سکے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دبئی میں نافذ سخت قوانین کے باعث لوگ بڑی تعداد میں شارجہ منتقل ہو رہے ہیں۔






