متحدہ عرب امارات

مصر سے تعلق رکھنے والا نایاب پرندہ ایجپشین نائٹ جار پانچ سال بعد دوبارہ فجیرہ کے وادی ورایا بایوسفیئر ریزرو میں دیکھا گیا ہے۔

خلیج اردو
ماحولیاتی حکام کے مطابق جنوری 2026 میں معمول کی نگرانی کے دوران فیلڈ ٹیموں نے اس پرندے کو ریزرو میں دوبارہ مشاہدہ کیا۔ یہ وہی پرندہ ہے جسے پہلی بار سال 2021 میں اسی مقام پر دیکھا گیا تھا اور شناختی رنگ پہنایا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ 2021 میں اس پرندے کی جسمانی علامات، وزن اور دیگر تفصیلات ریکارڈ کرنے کے بعد اسے آزاد کیا گیا تھا تاکہ اس کی ہجرت اور نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔

پانچ سال بعد فجیرہ انوائرمنٹ اتھارٹی کی ٹیم نے اسی نائٹ جار کو دوبارہ شناخت کر لیا، جو طویل المدتی رنگنگ اور مانیٹرنگ پروگرام کی کامیابی کا ثبوت ہے۔

محکمہ ماحولیات کے مطابق اس پروگرام کے ذریعے پرندوں کی طویل مدت میں نقل و حرکت، ہجرت کے راستوں اور قدرتی مسکن سے وابستگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

حجر پہاڑوں میں واقع وادی ورایا بایوسفیئر ریزرو ہجرت کرنے والے اور رات کو متحرک پرندوں کے لیے ایک محفوظ اور اہم پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے، جو علاقائی ہجرتی راستوں پر واقع ہے۔

ایجپشین نائٹ جار زمین پر گھونسلہ بنانے والا رات کو سرگرم پرندہ ہے، جو کھلے وادی علاقوں اور کنکریلی میدانوں میں انسانی مداخلت سے پاک ماحول پر انحصار کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ مشاہدہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مشرقی عرب میں ہجرت کرنے والے پرندے محض عارضی طور پر نہیں بلکہ ہر موسم میں وادی ورایا کو دوبارہ اپنا مسکن بناتے ہیں۔

یہ واقعہ وادی ورایا بایوسفیئر ریزرو کی ماحولیاتی اہمیت اور جنگلی حیات کے تحفظ میں اس کے کردار کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button