متحدہ عرب امارات

ابوظبی میں تیار کیے گئے بغیر پائلٹ کارگو طیارے نے لاجسٹکس کے شعبے میں ایک بڑے چیلنج کے حل کی جانب اہم پیش رفت کی ہے

خلیج اردو
ابوظبی میں تیار کیے گئے بغیر پائلٹ کارگو طیارے نے لاجسٹکس کے شعبے میں ایک بڑے چیلنج کے حل کی جانب اہم پیش رفت کی ہے، جس کا مقصد ہوائی اڈوں پر انحصار کے بغیر علاقائی مراکز کے درمیان تیز اور مؤثر ترسیل کو ممکن بنانا ہے۔

ابوظبی میں قائم ایرو اسپیس اسٹارٹ اپ لوڈ آٹونومس نے درمیانے حجم کا خودکار کارگو طیارہ ’ہیلی‘ تیار کیا ہے، جو لاجسٹکس کی زبان میں ’مڈل مائل‘ کہلانے والے مرحلے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، یعنی بڑے لاجسٹک مراکز اور مقامی تقسیم کے پوائنٹس کے درمیان سامان کی منتقلی۔

کمپنی کے مطابق امارات اور اتحاد کارگو سمیت بڑے ایئر آپریٹرز اور عالمی لاجسٹکس اداروں کے ساتھ 200 سے زائد طیاروں کی تیاری کے معاہدے طے پا چکے ہیں۔

لوڈ آٹونومس کے چیف ایگزیکٹو راشد المنائی کا کہنا ہے، "ای کامرس میں تیزی اور تجارتی حجم میں اضافے کے باعث لاجسٹکس مراکز کو تیزی سے جوڑنے کی ضرورت بڑھ رہی ہے، موجودہ کارگو سسٹمز مہنگے اور انفراسٹرکچر کے محتاج ہیں، ہم نے ایک مؤثر متبادل پیش کیا ہے”۔

کمپنی کے مطابق مسافر بردار خودکار طیاروں کے مقابلے میں کارگو کے شعبے میں خودمختار نظام کم پیچیدہ، کم لاگت اور تیزی سے قابلِ توسیع ہے۔ راشد المنائی کے مطابق، "ایک پائلٹ بیک وقت کئی طیاروں کی نگرانی کر سکے گا، جس سے کارگو پائلٹس کی عالمی قلت پر بھی قابو پایا جا سکے گا”۔

یہ طیارہ چھوٹے ڈرونز کے برعکس سینکڑوں کلوگرام وزن سینکڑوں کلومیٹر تک لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اسے خاص طور پر علاقائی مراکز، گوداموں اور ہمسایہ ممالک کے درمیان سامان کی منتقلی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

لوڈ کے پروجیکٹ مینیجر فاطمہ المرزوقی کے مطابق، "یہ طیارہ عمودی ٹیک آف اور لینڈنگ کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے لیے رن وے یا بڑے ہوائی اڈوں کی ضرورت نہیں”۔

طیارہ ہائبرڈ پروپلشن سسٹم پر کام کرتا ہے، جس میں برقی موٹرز کے ساتھ کمبسشن انجن شامل ہے۔ دورانِ پرواز انجن بیٹریاں خود چارج کرتا ہے، جس سے لینڈنگ کے بعد طویل چارجنگ کا انتظار ختم ہو جاتا ہے۔

کمپنی کے مطابق صرف 19 ماہ میں تصور سے پرواز تک کا مرحلہ مکمل کیا گیا، جبکہ اس وقت عمودی اور فکسڈ وِنگ منتقلی کے محفوظ ٹیسٹس جاری ہیں۔ رواں سال تجرباتی آپریشنز اور مستقبل میں مکمل سرٹیفکیشن کا ہدف رکھا گیا ہے۔

اگرچہ یہ طیارہ متحدہ عرب امارات میں ڈیزائن اور تیار کیا گیا ہے، تاہم یورپ، افریقہ اور برطانیہ سمیت عالمی منڈیوں سے بھی اس میں دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے۔

یہ منصوبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید خودکار ٹیکنالوجی کس طرح لاجسٹکس کے روایتی ماڈلز کو بدلتے ہوئے رفتار، لاگت اور انفراسٹرکچر کے نئے معیار متعین کر رہی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button