متحدہ عرب امارات

دبئی کے مصروف ترین جنکشنز میں شامل ٹریڈ سینٹر راؤنڈ اباؤٹ کی ازسرِنو ترتیب جاری ہے، جہاں روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی موجودہ گول چکر کو سرفیس انٹرسیکشن میں تبدیل کر رہی ہے تاکہ ٹریفک دباؤ کم کیا جا سکے۔

خلیج اردو
دبئی کے مصروف ترین جنکشنز میں شامل ٹریڈ سینٹر راؤنڈ اباؤٹ کی ازسرِنو ترتیب جاری ہے، جہاں روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی موجودہ گول چکر کو سرفیس انٹرسیکشن میں تبدیل کر رہی ہے تاکہ ٹریفک دباؤ کم کیا جا سکے۔

اگرچہ سڑکوں کا نقشہ بدل رہا ہے، تاہم آج بھی بہت سے لوگ اس مقام کو ڈیفنس راؤنڈ اباؤٹ کے نام سے جانتے اور پہچانتے ہیں، حالانکہ یہ نام سرکاری طور پر کب کا ختم ہو چکا ہے۔

یہ رجحان نیا نہیں۔ دبئی میں وقت کے ساتھ ساتھ سڑکیں، چوراہے اور راؤنڈ اباؤٹس بنتے، ٹوٹتے اور تبدیل ہوتے رہے، مگر عوامی یادداشت میں بسے نام آج بھی راستوں کی پہچان بنے ہوئے ہیں۔

جی پی ایس اور مکانی کوڈز سے پہلے لوگ گھڑیال، سینما، مجسموں اور راؤنڈ اباؤٹس کو بطور نشانی استعمال کرتے تھے۔ اماراتی ثقافتی مشیر محمد کاظم کے مطابق، "شہر میں لوگ آتے جاتے رہتے تھے، اس لیے نشانیاں ہی شہر کو سمجھانے کا ذریعہ بنتی تھیں”۔

شیخ زاید روڈ کو ماضی میں ڈیفنس روڈ کہا جاتا تھا، جہاں بعد ازاں ایک راؤنڈ اباؤٹ تعمیر ہوا، جو بعد میں ٹریڈ سینٹر راؤنڈ اباؤٹ کہلایا۔ اگرچہ وقت کے ساتھ اس کی ساخت بدل گئی، مگر پرانا نام آج بھی زبان زدِ عام ہے۔

دبئی میں دو دہائیوں سے ٹیکسی چلانے والے ایک ڈرائیور کے مطابق، "یہ نام ڈرائیور سے ڈرائیور تک منتقل ہوتے ہیں”۔

یہی صورتحال شہر کے دیگر حصوں میں بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ بر دُبئی کا اسٹرینڈ سینما، جو 1990 کی دہائی میں منہدم ہو گیا، آج بھی راستے سمجھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ دیرہ میں گھڑیال چوک، گڑھود کا فالکن راؤنڈ اباؤٹ، اور جمیرا کا فلیم راؤنڈ اباؤٹ بھی صرف ناموں کی صورت میں زندہ ہیں۔

قدیم رہائشیوں کے مطابق اس دور میں سنہری اور چاندی ریت کے سوا کچھ نہیں تھا، اور اگر کوئی راستہ بھول جاتا تو دور سے نظر آنے والا ٹریڈ سینٹر عمارت کا واحد سہارا ہوتی تھی۔

برطانوی ماہرِ تعمیرات جان ہیریس نے 1959 کے ماسٹر پلان میں دبئی میں راؤنڈ اباؤٹس متعارف کرائے، جو بعد ازاں شہر کی شناخت بن گئے۔ بعض کو دلچسپ القابات بھی ملے، جیسے فالکن راؤنڈ اباؤٹ کو بعض لوگ مذاقاً "بجّی” بھی کہتے تھے۔

جمیرا چڑیا گھر میں زرافے کی لمبی گردن تک لوگوں کے لیے نشانی بن گئی تھی، جہاں کہا جاتا تھا، "زرافے کی گردن سے 200 میٹر پہلے مڑیں”۔

آج بھی سوشل میڈیا پر "دبئی — دی گڈ اولڈ ڈیز” جیسے گروپس میں پرانے مقامات کی تصاویر اور یادیں شیئر کی جاتی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ شہر کی عمارتیں بدل سکتی ہیں، مگر یادداشت میں بسے راستے اور نام وقت سے ماورا ہو جاتے ہیں۔

یہ کہانی دبئی کی اس انوکھی روایت کو اجاگر کرتی ہے جہاں جدید ڈیجیٹل نیویگیشن کے باوجود ماضی کی نشانیاں آج بھی شہری سمتوں کا خاموش مگر مضبوط حوالہ بنی ہوئی ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button