متحدہ عرب امارات

دبئی کی مشہور ٹویوٹا بلڈنگ مسمار ہونے پر رہائشی افسردہ، ’ایک دور کا خاتمہ‘

خلیج اردو
دبئی کی معروف ناصر راشد لوطہ بلڈنگ جسے عمارت پر نصب سرخ اور سفید ٹویوٹا کے بڑے سائن بورڈ کی وجہ سے عام طور پر ’ٹویوٹا بلڈنگ‘ کہا جاتا تھا، مسمار کیے جانے کے اعلان کے بعد پرانے رہائشیوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔

1974 میں تعمیر ہونے والی یہ عمارت دبئی کی پہلی بلند عمارت کے طور پر جانی جاتی ہے۔ اُس وقت یہ تیزی سے ترقی کرتے دبئی کی خوشحالی کی علامت تھی تاہم وقت کے ساتھ یہ شہر کے پرانے رہائشیوں کے لیے دبئی کے سادہ اور ابتدائی دور کی یادگار بن گئی۔

1981 میں عمارت کی چھت پر ٹویوٹا کا بڑا سرخ نشان نصب کیا گیا جس کے بعد یہ دبئی کی نمایاں پہچان بن گئی۔

2012 میں ایک سال تک عمارت میں رہنے والی سنگیتھا نے بتایا کہ یہ عمارت ان کی زندگی کے مشکل وقت میں ان کے اور ان کے شوہر کے لیے سہارا بنی۔ اس وقت دونوں ملازمت کے درمیان وقفے سے گزر رہے تھے اور یہی رہائش ان کے بجٹ میں تھی۔

سنگیتھا کے مطابق عمارت پرانی اور خستہ حال تھی لیکن وہاں رہنے والوں میں بہت اپنائیت تھی۔ دورانِ حمل پڑوسی انہیں کھانے پینے کی چیزیں بھیجتے تھے اور ان کے ساتھ قریبی دوستی ہوگئی تھی۔

بھارتی شہری محمد کنہی جو 1982 میں دبئی آئے تھے، ان کے لیے بھی ٹویوٹا بلڈنگ دبئی کی ابتدائی یادوں کا اہم حصہ تھی۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت سے دبئی پہنچنے کے بعد پہلی بار عمارت دیکھ کر وہ حیران رہ گئے تھے کیونکہ اُس دور میں بھارت میں اتنی بلند عمارتیں عام نہیں تھیں۔

وہ کام کے سلسلے میں اکثر ابوظبی جاتے تھے اور واپسی پر ٹویوٹا بلڈنگ نظر آتے ہی انہیں احساس ہوتا تھا کہ ان کا گھر قریب ہے۔ ان کے مطابق عمارت ان کے ماضی سے ایک خاص تعلق رکھتی تھی اور اس کے مسمار ہونے کی خبر نے انہیں شدید افسردہ کردیا۔

عمارت کی پراپرٹی مینجمنٹ کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ رہائشیوں کو عمارت خالی کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے اور اسے مسمار کیا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر بھی اس خبر پر لوگوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ کئی افراد نے اسے ’ایک دور کا خاتمہ‘ قرار دیا جبکہ بعض نے عمارت کو بحال کرکے دبئی کے تاریخی ورثے کے طور پر محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا۔

پرانے رہائشیوں کے مطابق ٹویوٹا بلڈنگ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ دبئی کی ترقی کے سفر کی ایک یادگار تھی۔ لوگوں نے اس کے ساتھ جڑی اپنی بچپن کی یادیں شیئر کرتے ہوئے کہا کہ عمارت کا خاتمہ انہیں ایسا محسوس کرا رہا ہے جیسے ان کے ماضی کا ایک حصہ بھی ختم ہورہا ہو۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button