متحدہ عرب امارات

چمکتی جلد اور گھنے بالوں کے لیے ایکسوسوم ٹریٹمنٹ کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم متحدہ عرب امارات کے ماہرینِ جلد نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی تصاویر اور مریضوں کے مثبت تجربات کو طبی مشورے یا سائنسی شواہد کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

خلیج اردو
چمکتی جلد اور گھنے بالوں کے لیے ایکسوسوم ٹریٹمنٹ کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم متحدہ عرب امارات کے ماہرینِ جلد نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی تصاویر اور مریضوں کے مثبت تجربات کو طبی مشورے یا سائنسی شواہد کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق ایکسوسوم ٹریٹمنٹ کے ممکنہ فوائد پر تحقیق جاری ہے، جبکہ اس کے طویل مدتی تحفظ، معیار اور مؤثریت سے متعلق کئی سوالات تاحال جواب طلب ہیں۔ ان علاجوں کے ممکنہ خطرات کا انحصار استعمال ہونے والی مصنوعات، ان کی تیاری کے طریقہ کار اور جلد پر لگانے یا انجیکشن کے ذریعے جسم میں داخل کرنے پر ہو سکتا ہے۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کی وزارتِ صحت نے ایکسوسوم انجیکشن کے استعمال کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ وزارت کے مطابق اس معاملے میں ملوث چند ڈاکٹروں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور متعلقہ ضابطہ جاتی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔ وزارت نے واضح کیا کہ طبی علاج کے لیے متعلقہ استعمال کی باقاعدہ منظوری اور لائسنس ہونا ضروری ہے۔

متحدہ عرب امارات میں بھی ماہرینِ جلد مریضوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ ایسے علاج سے پہلے احتیاط کریں جن کے بارے میں غیر معمولی فوائد کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن جن کی حمایت مضبوط طبی تحقیق سے ثابت نہیں ہوتی۔

ایل ایل ایچ ہسپتال مصفح میں ماہرِ جلد ڈاکٹر بوبی کوشی کے مطابق ایکسوسوم ٹریٹمنٹ کے طویل مدتی تحفظ سے متعلق معلومات محدود ہیں، جبکہ ان مصنوعات کی تیاری میں مختلف حیاتیاتی ذرائع استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تیاری کے معیاری طریقہ کار کی عدم موجودگی کے باعث مختلف مصنوعات اور برانڈز میں ان کی طاقت، خالص پن اور مقدار مختلف ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر بوبی کوشی نے خبردار کیا کہ اگر کسی پروڈکٹ کی مناسب جانچ، پروسیسنگ اور جراثیم سے پاک کرنے کے مراحل مکمل نہ کیے جائیں تو انفیکشن یا بیکٹیریا کے زہریلے مادوں سے متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ایکسوسوم خلیوں کی افزائش اور ان کے درمیان پیغامات کی ترسیل پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں، جبکہ محققین ان کے طویل مدتی اثرات، بشمول کینسر سے متعلق ممکنہ خطرات، کا جائزہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے مریضوں کو غیر تربیت یافتہ افراد سے علاج کروانے، غیر معمولی رعایتوں اور ڈرامائی یا یقینی نتائج کی ضمانت دینے والے دعووں سے محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔ ان کے مطابق مریضوں کے تجربات اور تعریفی بیانات کبھی بھی سائنسی شواہد یا مستند طبی مشورے کی جگہ نہیں لے سکتے۔

ایمریٹس اسپیشلٹی ہسپتال کی کنسلٹنٹ ڈرماٹولوجسٹ ڈاکٹر سینڈرا معوض تکلا نے کہا کہ علاج کروانے سے پہلے مریضوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ انہیں کون سی پروڈکٹ فراہم کی جا رہی ہے، اسے کس ادارے نے تیار کیا ہے اور آیا متحدہ عرب امارات میں اس مخصوص استعمال کے لیے اس کی منظوری حاصل ہے یا نہیں۔

انہوں نے صارفین کو مشورہ دیا کہ وہ ڈاکٹر اور طبی مرکز کی اسناد متعلقہ ادارے سے تصدیق کریں۔ دبئی میں دبئی ہیلتھ اتھارٹی، ابوظبی میں محکمہ صحت ابوظبی، جبکہ دیگر امارات میں وزارتِ صحت و تحفظ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر تکلا کے مطابق مریض کلینک سے پروڈکٹ کا نام اور بیچ نمبر طلب کریں اور متعلقہ حکام کے ذریعے اس کی منظوری کی آزادانہ تصدیق کریں۔ اگر کلینک ان سوالات کے واضح جواب دینے سے گریز کرے تو اسے بھی ایک اہم انتباہ سمجھنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر اکثر قابلِ اعتماد طبی شواہد کے بجائے حیران کن تبدیلیوں کو زیادہ توجہ ملتی ہے۔ صارفین کو ایسی مصنوعات سے محتاط رہنا چاہیے جنہیں معجزاتی علاج یا بڑھتی عمر کے اثرات روکنے میں بڑی پیش رفت قرار دیا جائے، لیکن ان دعووں کے حق میں معتبر تحقیق موجود نہ ہو۔ غیر واضح اجزا، فوری بکنگ کے لیے دباؤ اور منظوری کے ادارے کا نام بتائے بغیر اجازت حاصل ہونے کے دعوے بھی تشویش کا باعث ہیں۔

ڈاکٹر تکلا کے مطابق ایک ذمہ دار معالج مریض کو واضح طور پر بتائے گا کہ دستیاب سائنسی شواہد کیا ثابت کرتے ہیں اور کن پہلوؤں پر ابھی تحقیق درکار ہے، جبکہ مریض کو فیصلہ کرنے کے لیے مناسب وقت بھی دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button