متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات : آپ کو پارٹ ٹائم جاب کے حوالے سے قانون کیا فوائد اور تحفظ دیتا ہے؟

خلیج اردو
12 نومبر 2020
دبئی: متحدہ عرب امارات میں رہتے ہوئے قانون سے اگاہی کسی غنیمت سے کم نہیں۔جہاں قانون سے اگاہی آپ کو مشکلات سے بچاتی ہے وہاں بہت سی آسانیوں کے بارے میں بھی بتاتی ہیں۔

خلیج ٹائمز سے پوچھے گئے ایک شہری کے سوال کے جواب میں موجود رہنمائی تمام ان افراد کیلئے مفید ہے جو متحدہ عرب امارات میں پارٹ ٹائم جاب کے خواہشمند ہیں۔ شہری کا سوال اور اس کا جواب مندرجہ زیل ہے۔

سوال : میں ایک بزرگ شہری ہوں۔ میرے پاس نہ صرف دبئی کا رہائشی ویزہ ہے بلکہ ورک پرمٹ بھی موجود ہے اور مجھے وزارت انسانی وسائل اور امریٹائزیشن کی جانب سے کام کی اجازت بھی ہے۔ کیا کوئی ایسی لمٹ موجود ہے جس کو دیکھتے ہوئے اس سے زیادہ کمائی سے مجھے تجاوز نہیں کرنا چاہیئے؟ ایسی صورت میں جب میرا ارباب مجھے تنخواہ نہیں دے رہا کیونکہ میں اوورٹائم سے زیادہ رقم کمارہے ہیں۔ ان کے خیال میں چونہ اوور ٹائم سے میں بہت رقم کماتا ہوں تو وہ مجھے تنخواہ نہیں دیتا۔

خلیج ٹائمز : آپ کے سوال کے جواب سے میں فرض کرتے ہیں کہ آپ کے بنیادی ارباب اور جس کے ساتھ آپ پارٹ ٹائم کام کرتے ہیں وہ دونوں دبئی میں موجود ہیں۔ اس صورت میں وفاقی قانون کے ریگولیٹنگ امپاورمنٹ ریلیشن کے قانون نمبر 8 آف 1980 اور منسٹریل ڈیکری نمبر 31 آف 2018 یہاں لاگو ہوتا ہے۔

ایسی صورت میں کوئی زیادہ لمٹ اپلیکیبل نہیں ہے۔ ملازم اور ارباب دونوں کو قانون کا احترام کرنا چاہیئے اور اس پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔ کسی بھی صورت میں ملازم کا کوئی بھی فائدہ اس کا ذاتی فائدہ ہوتا ہے اور اس پر اس کے ارباب کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ یہ ملازمت کے قانون نمبر 7 کے مطابق ہے۔

آپ اپنے عامر کے ساتھ ہوئے معاہدے سے ہر حوالے سے مستفید ہونے کیلئے اہل ہیں۔ آپ کا ارباب آپ کو تمام مراعات دینے کا پابندی ہے۔ اگر آپ ان کے ساتھ مقررہ گھنٹوں پر مبنی کام کررہے ہیں تو آپ کا حق ہے کہ تمام مراعات آپ کو دیئے جائیں۔

آپ کا ارباب پابند ہے کہ وہ آُ کو آپ کی تنخواہ اور دیگر مراعات باقاعدگی کے ساتھ ادا کریں۔ یہ بھی واضح ہو کہ آپ اپنے پہلے ارباب کی ڈٰوٹی میں کوئی کمی کوتاہی نہ کرتے ہوں۔

آپ اس حوالے سے ارباب کے عدم تعاون کے خلاف وزارت اافرادی قوات میں شکایت بھی درج کر سکتے ہیں۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button