
خلیج اردو
07 اکتوبر 2021
دبئی : حالیہ سوشل میڈیا کی بندش نے بہت سے لوگوں کو ہوش کے ناخن لینے کے بارے میں فکرمند کیا ہے۔ جب فیس بک اور اس کے دیگر اپلیکیشن بند ہوئے تو کچھ لوگفوں کے پاس کرنے کو کچھ کام نہین تھا۔ کچھ افراد نے اسے ایک نعمت قرار دیا کیونکہ انہوں نے فیملی کے ساتھ وقت گزارا۔
اس چھ گھنٹے کے دورانیے میں اپنے پیاروں سے رابطہ قائم نہ کرنے پر ان کی پریشانی کو سب سے زیادہ جائز قرار دیا جس سے یہ بات سامنے لائی کہ لوگ سوشل میڈیا پر کتنے انحصار کرتے ہیں۔
جی ایچ جو ایک ورکنگ وومن ہے ، کا کہنا ہے کہ انہیں واٹس اپ کی بندش کا پتہ نہیں تھا اور وہ بار بار کسی کو بھجوائے ہوئے پیغام کا بلیو ٹک دیکھ رہی تھی۔
انہوں نے جلیج ٹائمز کو بتایا کہ اسے پریشانی لاحق ہوئی کہ شاید اس کے فون میں کوئی خرابی ہے۔ ’ میں نے موبائل سے بیتری نکالی کیونکہ مجھے لگا کہ موبائل خراب ہے۔ کافی زیادہ وقت لگا اس مسئلہ کو حل کرنے میں ‘ انہوں نے بتایا ۔
جی ایچ بتاتی ہے کہ اس وقت وہ خود کو بے بس محسوس کررہی تھی اور ذہنی تناؤ میں مبتلا رہی ۔ اس بندش نے مجھے مجبور کیا کہ میں اپنا سوشل میڈیا کا استعمال کم کروں۔
ڈیجیٹل ڈی ٹوکس کیا ہے اور آپ کو اس کی ضرورت کیوں ہے؟
ذہنی صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سوشل میڈیا کی اس اچانک بندش نے آپ کو چونکا دیا ہے تو آپ کو اپنے سکرین کے استعمال کے دورانیے پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے اور ڈیجیٹل و حقیقی زندگی کا بہتر توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
بہت سے لوگوں کو ڈیجیٹل ڈیٹوکس کی ضرورت پڑسکتی ہے – جس سے مراد وہ وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص الیکٹرانک آلات جیسے اسمارٹ فون ، ٹیلی ویژن ، کمپیوٹر اور ٹیبلٹ استعمال کرنے سے گریز کرتا ہے۔
الامال ہسپتال میں کنسلٹنٹ سائیکاٹرسٹ اور ورلڈ فیڈریشن آف مینٹل ہیلتھ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مہناز ظفر علی کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ڈیٹوکس کسی کی ذہنی تندرستی اور بحالی انتہائی مفید ہے۔
ڈاکٹر علی نے کہا کہ کرونا وائرس وباء کے دوران سماجی دوری اور الگ تھلگ پروٹوکول کی وجہ سے سوشل میڈیا بہت سے لوگوں کیلئے ایک مؤثر مقابلہ کرنے کی حکمت عملی بن گیا ہے۔
دبئی میں دی سائیکیاٹری اینڈ تھراپی سنٹر کے منیجنگ ڈائریکٹر اور ماہر نفسیات ڈاکٹر اسد صادق نے کہا کہ بہت سے لوگوں کو احساس ہوا کہ وہ کسی حد تک سوشل میڈیا کے لت میں پڑ چکے ہیں۔
سوشل میڈیا کی بندش نے کچھ لوگوں کی نیند میں خلل ڈال دی ہے جبکہ دوسروں نے گزرے وقتوں کو یاد کرنا شروع کیا ہے جب لوگوں نے آمنے سامنے فون پر بات کی۔ کچھ نے سمجھا اگر فیس بک کبھی واپس نہ آئے اور تمام ڈیٹا ضائع ہو جائے تو کیا ہوگا؟
کچھ لوگوں نے حیران طور پر خود کو صورت حال کے مطابق ڈھال لیا اور انہوں نے متبادل اپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کیے اور اس کا استعمال کیا۔
Source : Khaleej Times







