خلیج اردو آن لائن:
شارجہ کے محکمہ ماحولیات (ای پی اے اے) کے انسپیکٹرز نے اس سال اکتوبر میں 1869 برڈ کال ڈیوائسز ضبط کر لیں ہیں۔ جبکہ گزشتہ سال اکتوبر میں 768 ایسی ڈیوائسز ضبط کی گئی تھیں۔ برڈ کال ڈیوائسز پرندوں کو جال میں پھنسانے کے لیے الیکٹرک ڈیوائسز ہوتی ہیں جو شکاری پرندوں کا شکار کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یہ ڈیوائسز ایسا آواز پیدا کرتی ہیں جس پرندے اس مقام کی جانب جانے لگتے ہیں جہاں یہ ڈیوائس نصب کی گئی ہوتی ہے اور پھر ان پرندوں کو شکار کر لیا جاتا ہے۔
محکمہ ماحولیات ای پی اے اے کا کہنا ہے کہ محکمےکے انسپیکٹرز نے ان ڈیوائسز کو ضبط کرنے کےلیے بڑے خطرات مول لیے ہیں۔ ای پی اے اے کے چیئر پرسن حنا سیف السویدی نے بتایا کہ ” ایکسٹرنل انسپیکشن ٹیمز ان ڈیوائسز کو برآمد کرنے پھر ضبط کرنے کے لیے کئی قسم کے خطرات سے گزرتے ہیں لیکن وہ اس کام بہت مہارت سے سرانجام دیتے ہیں”۔
پرندوں کے ایک مقام سے دوسرے مقام کے لیے حجرت کا موسم اکتوبر میں شروع ہوتا ہے۔ اور یہ ڈیوائسز بھی انہی دنوں میں شکار کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
اور ان ڈیوائسز کو ضبط کرنے کے لیے انسیپکٹرز درج ذیل خطرات سے گزرتے ہیں:
- شکاری ان ڈیوائسز کو عام طور اونچے درختوں کے اوپر لگاتے ہیں۔ لہذا انسپیکٹرز کو ان درختوں کے اوپر چڑھ کر ان ڈیوائسز کو ضبط کرنے پڑتا ہےجس سے درخت سےگرنے اور چوٹ آنے خطرہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض اوقات ڈیوائسز ایسی جھاڑیوں میں لگائی جاتی ہیں جہاں پر زہریلے سانپ موجود ہو سکتےہیں۔
- اس مہم کے دوران کچھ انسپیکٹرز ڈیوائس کے اردگرد لگائی گئی تاروں میں پھنس کر گرنے سے زخمی ہوئے ہیں۔
- ان ڈیوائسز کی تلاش اور برآمدگی کے مشن کے دوران انسپیکٹرز شدید سرد موسم جیسا کہ 10 ڈگری تک کے درجہ حرارت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
- پہاڑی علاقوں اور دیگر پتھریلے علاقوں میں انسپیکٹرز کی گاڑیوں کے ٹائر پھٹنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
برڈ کال ڈیوائسز کیا ہیں؟
برڈ کال ڈیوائسز ایسی آواز پیدا کرتی ہیں جس سے غول کے اندر پرواز کرنے والے پرندے اس آواز کی طرف کھینچے چلے جاتے ہیں اور وہاں شکاریوں نے جا لگائے ہوتے ہیں جن میں پھنس کے بعد شکار ان پرندوں کا شکار کرتے ہیں۔
ایسی ڈیوائسز کو بیچنا اور انکا استعمال کرنا غیر قانونی ہے۔ اور اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر 10 ہزار درہم جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ اور قانوی دوسری بار خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ دگنا ہوجاتا ہے۔
Source: Khaleej Times







