خلیج اردو آن لائن:
متحدہ عرب امارات میں کورونا کے پھیلاؤ کے پیش نظر مساجد میں جمعہ اجتعماعات پر عائد پابندی کو 4 دسمبر سے ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ تاہم، نماز جمعہ کے لیے آنے والوں کو متعدد ایس اوپیز پر عمل کرنا ہوگا۔
دبئی کے ایک جید عالم دین نے مساجد میں نماز جمعہ کی نماز کی دوبارہ اجازت ملنے کے بعد لوگوں سے درخواست کی ہے کہ کورونا ایس پیز پر عمل کریں۔
ممتاز عالم دین ڈاکٹر احمد الہداد کا کہنا تھا کہ "مساجد میں نماز جمعہ کی دوبارہ سے ادائیگی ہمارے لیے ایک نعمت ہے اور ہمیں احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے اس کے لیے شکرگزار ہونا چاہیے تاکہ کوئی مسجد دوبارہ سے بند نہ ہو سکے”۔
انکا کہنا تھا کہ وبا کی وجہ سے ہم سب کی زندگیاں بدل گئی ہیں لہذا ہمیں پہلے سے زیادہ محتاط ہونا ہوگا۔
انہوں نجی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "حکومت لوگوں کی زندگیوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ جو تعلیمات اسلام کا ایک ضروری حصہ ہیں”۔
احمد الہداد کا کہنا تھا کہ جولائی میں پانچ وقت نماز کے لیے کم نمازیوں کی شرط کے ساتھ مساجد کھولنے کے بعد نمازیوں کی جانب سے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کیا گیا اور اسی وجہ سے اب تک مساجد میں سے کوئی کورونا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
انکا کہنا تھا کہ ویکسین کے آجانے سے زندگی دوبارہ سے معمول پر آجائے گی تاہم تب تک تمام افراد کو کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بنائی گئی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا۔
یاد رہے کہ نماز جمعہ کے لیے مساجد درج ذیل شراط کے ساتھ کھولی گئی ہیں:
- حکام کا کہنا ہے مساجد میں جمعے کی نماز کے دوران نمازیوں کی تعداد مسجد کی کل گنجائش کا صرف 30 فیصد ہوگی۔
- مسجد خطبہ جمعہ سے صرف 30 منٹ پہلے کی کھولی جائے گی اور خطبے کے 30 منٹ بعد بند کردی جائے گی۔
- نماز اور خطبہ صرف 10 منٹ پر محیط ہوگا۔
- مسجد میں وضوکرنے کی جگہ اور باتھ روم بند رہیں گے اور نمازیوں کو گھر سے وضو کر کے آںا ہوگا۔
- تاہم دیگر نمازوں کے لیے مسجد نماز سے 15 منٹ پہلے کھولی جائے گی جبکہ مغرب کی نماز سے صرف 5 منٹ پہلے کھولی جائےگی۔ اور تمام مساجد نماز سے 10 منٹ بعد بند کردی جائیں گیں۔
- اور نمازیوں کو ماسک پہننا ہوگا اور انہیں گھر سے جائے نماز ساتھ لانا ہوگا۔ جبکہ بوڑھے ور کمزور افراد کو گھر پر نماز پڑھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
Source: Khaleej Times







