
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں گرمی اپنے عروج پر ہے جہاں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ رہا ہے، ایسے میں شہری بڑی تعداد میں ٹھنڈے ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔ ایکسپیڈیا کی رپورٹ کے مطابق آئس لینڈ کی سرچز میں سال بہ سال 160 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ کینیڈا کے صوبے البرٹا کی سرچز میں 90 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ٹھنڈے خطوں کی بڑھتی مقبولیت
اسکینڈے نیویا، سوئٹزرلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور اٹلی کے ساؤتھ ٹائیرول بھی نمایاں طور پر پسند کیے جا رہے ہیں۔ ٹریول سروس فراہم کرنے والی کمپنی dnata کے مطابق جاپان، فن لینڈ، ناروے، آئس لینڈ اور نیوزی لینڈ جیسے ٹھنڈے مقامات رواں سال ٹاپ 20 مقبول ترین مقامات میں شامل ہیں۔
dnata کے ٹریول لیژر مینیجر میتھیو ولیمکس نے بتایا کہ لوگ اب زیادہ تر ایسی جگہوں کا انتخاب کر رہے ہیں جہاں قدرتی مناظر، ٹھنڈا موسم اور پرسکون ماحول دستیاب ہو۔
صرف امیر طبقہ نہیں
ماضی میں آئس لینڈ، کینیڈا اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک کا سفر زیادہ تر امیر طبقہ کرتا تھا کیونکہ یہ مہنگے اور طویل سفر سمجھے جاتے تھے۔ تاہم ولیمکس کا کہنا ہے کہ اب فلائٹ ڈیلز، پیکجز اور ملٹی ڈیسٹینیشن آپشنز نے ان سفروں کو نسبتاً سستا کر دیا ہے۔
روحانی اور خاندانی سکون
دبئی کے معروف بزنس مین فراس المصدی نے بتایا کہ وہ اس بار اپنے خاندان کے ساتھ آئس لینڈ گئے جہاں درجہ حرارت 5 سے 15 ڈگری کے درمیان تھا۔ انہوں نے کہا:
"یہ سفر صرف گرمی سے بچنے کے لیے نہیں بلکہ ایک روحانی اور جسمانی ری سیٹ کے لیے تھا۔ ہم نے ہائیکنگ، گھڑ سواری اور اجتماعی عبادت جیسے تجربات کو انجوائے کیا۔”
انہوں نے کہا کہ آئس لینڈ اگرچہ مہنگا ہے لیکن یہ تجربہ ہر لحاظ سے انمول ہے۔
"اب ہمارا شیڈول طے ہو گیا ہے، سردیاں دبئی کے ریگستان میں اور گرمیاں اسکینڈے نیویا اور آئس لینڈ میں گزریں گی۔







