
خلیج اردو
دبئی: یو اے ای میں اسکولوں کے باہر والدین اور طلبہ کو روزانہ ڈراپ آف اور پک اپ کے دوران ٹریفک کے مسائل کا سامنا رہتا ہے، تاہم ٹریفک مارشلز اپنی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ماحول کو خوشگوار بنانے کے لیے منفرد انداز اپناتے ہیں۔ بعض اوقات یہ مارشلز ڈانس کے انداز، خاص طور پر مشہور "مون واک” کے ذریعے والدین اور طلبہ کو مسکرانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
یہ مارشلز شدید گرمی اور بدلتے موسم میں ٹریفک کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ کمیونٹی کے پسندیدہ افراد بھی بن چکے ہیں جو نہ صرف سڑکوں پر حفاظت اور نظم و ضبط کی علامت ہیں بلکہ خوش اخلاقی اور مسکراہٹ کے ساتھ اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
اسکول حکام کے مطابق، ٹریفک مارشلز کو سخت تربیت دی جاتی ہے جس میں سیفٹی، ٹریفک کنٹرول، ابلاغ اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی خصوصی مشق شامل ہوتی ہے۔ بعض اسکولوں میں دبئی پولیس اکیڈمی کے ماہرین عملی تربیت بھی فراہم کرتے ہیں۔
جمیرا بیکالوریئٹ اسکول کے پرنسپل رچرڈ جون ڈریو نے بتایا کہ بعض مارشلز اپنے اشاروں میں ذاتی انداز شامل کر لیتے ہیں، جیسے ایک مینیجر ٹونی جو اکثر اپنی ڈیوٹی کے دوران مون واک کر کے سب کو محظوظ کرتے ہیں۔
جی ای ایم ایس ویس گرین انٹرنیشنل اسکول، شارجہ کے پرنسپل جیمز میکڈونلڈ کے مطابق، بعض مارشلز بڑھا چڑھا کر اشارے کرنے یا دوستانہ انداز اپنانے کے ذریعے ٹریفک کو نہ صرف محفوظ بلکہ خوشگوار بھی بناتے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ کمیونٹی میں شعور اجاگر کرنے اور طلبہ و والدین میں مقبولیت حاصل کرنے کا ایک موثر طریقہ ہے۔
ویس گرین کے ایک مارشل ایبائی برلینٹ تو مقامی سطح پر شہرت بھی حاصل کر چکے ہیں۔ وہ ٹریفک کنٹرول کو ڈانس پرفارمنس میں بدل دیتے ہیں اور والدین و طلبہ کو محظوظ کرتے ہیں۔
دبئی کے ڈیوویل اسکول کی پرنسپل سیمہ عمر نے بتایا کہ مارشلز کو نہ صرف ٹریفک کنٹرول بلکہ ایمرجنسی، فرسٹ ایڈ اور موسمی حفاظتی تدابیر کی بھی تربیت دی جاتی ہے۔ بعض مارشلز ڈانس نما حرکات یا منفرد ہینڈ سگنلز استعمال کرتے ہیں تاکہ ڈرائیورز کی توجہ زیادہ مؤثر انداز میں حاصل کی جا سکے۔
یوں یو اے ای میں اسکول ٹریفک مارشلز اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کو خوشی، توانائی اور مثبت ماحول کے ساتھ نبھا رہے ہیں۔






