
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے شہر خورفکان میں پانچویں سالانہ آم میلے کا آغاز ہو گیا، جہاں پچاس سے زائد اقسام کے مقامی اور درآمدی آم نمائش اور فروخت کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ آم کی قیمتیں چھ درہم فی کلوگرام سے شروع ہوتی ہیں، جبکہ اعلیٰ معیار کے نامیاتی آم زیادہ قیمت پر فروخت کیے جا رہے ہیں۔
تین روزہ میلے میں ملک بھر سے کسان، تاجر اور خریدار شریک ہوئے۔ پہلے ہی روز کئی افراد نے سینکڑوں درہم کے آم خریدے، جبکہ بعض خریداروں نے ایک ہزار درہم سے زائد مالیت کے آم بھی خریدے۔ ایک کلوگرام سے زیادہ وزن والے بڑے آم اور رنگ برنگی اقسام نے میلے کی رونق بڑھا دی۔
اماراتی ملکیت کے ایک زرعی فارم کے نمائندے اشرف نے بتایا، "ہم پہلے دن تقریباً دو سو کلوگرام آم لائے تھے، جن میں پانچ مقامی اور پانچ درآمدی اعلیٰ معیار کی اقسام شامل تھیں۔ دن کے اختتام تک تقریباً تمام آم فروخت ہو چکے تھے۔ لوگ مختلف اقسام کا ذائقہ چکھتے ہیں اور پسند آنے پر دوبارہ خریدنے بھی آتے ہیں۔”
ایک اور کسان مصطفیٰ الشیحی نے بتایا کہ ان کے فارم میں آم کی نو اقسام کاشت کی جاتی ہیں، جن میں روایتی اور پیوند شدہ اقسام شامل ہیں۔ انہوں نے کہا، "یہ میلے کسانوں کے لیے انتہائی اہم ہیں کیونکہ یہاں پورے ملک سے آنے والے خریداروں سے براہِ راست رابطہ ہوتا ہے۔ ہمارے قدرتی طریقے سے اگائے گئے نامیاتی آم تقریباً پندرہ درہم فی کلوگرام سے فروخت ہوتے ہیں۔”
گرم موسم میں آم کی کامیاب کاشت سے متعلق سوال پر مصطفیٰ الشیحی نے کہا، "درست آبپاشی، قدرتی کھاد، باقاعدہ شاخ تراشی اور مسلسل دیکھ بھال کی بدولت آم کے درخت متحدہ عرب امارات کے موسم میں بھی بہترین اور میٹھا پھل دیتے ہیں۔”
میلے میں آنے والے احمد العلی نے بتایا کہ انہوں نے اپنے اہلِ خانہ اور رشتہ داروں کے لیے ایک ہزار درہم سے زیادہ مالیت کے آم خریدے۔ ان کا کہنا تھا، "میں ہر سال یہاں آتا ہوں کیونکہ کسانوں سے براہِ راست تازہ آم خریدنے اور مختلف اقسام کا ذائقہ چکھنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ کئی اقسام عام بازاروں میں دستیاب نہیں ہوتیں۔”
ایک اور خریدار عبداللہ الحسّام نے تقریباً بیس کلوگرام آم خریدنے کے بعد کہا، "یہاں معیار بہترین اور قیمتیں مناسب ہیں۔ کسان خود ہر قسم کی مٹھاس اور ذائقے کے بارے میں رہنمائی کرتے ہیں، اسی لیے ہم ہر سال اس میلے کا انتظار کرتے ہیں۔”
شارجہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تعاون سے منعقد ہونے والا یہ میلہ 28 جون تک ایکسپو خورفکان میں جاری رہے گا، جہاں تازہ پھلوں کے علاوہ مختلف مقابلے، ثقافتی پروگرام، ورکشاپس اور خاندانی سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔







