متحدہ عرب امارات

اس سال زکام سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور 28 ستمبر سے پرائمری ہیلتھ سنٹرز سے زکام کی ویکسین لگوائیں، یو اے ای حکام کی شہریوں کو ہدایت

خلیج اردو آن لائن:
کورونا وائرس کی وبا کے دنوں میں زکام کی ویکسین کی لگوانا اور بھی ضروری ہوگیا ہے۔ کیونکہ کورونا وائرس اور زکام کی علامات تقریبا ایک جیسی ہیں۔ اس لیے مہاہرین صحت لوگوں کو اس سال زکام کی ویکسین ضرور لگوانے کا مشہورہ دے رہے ہیں تاکہ زکام کے مریض کم سے کم ہوں اور کورونا وائرس اور زکام کے مریضوں کےدرمیان فرق کرنے میں آسانی رہے۔

اسی صورتحال کے پیش نظر متحدہ عرب امارات میں موسمی زکام کے حوالےسے آگاہی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اور یو اے ای حکام کی جانب سے لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 28 ستمبر سے ملک بھر کے پرائمری ہیلتھ سنٹرز سے کورونا کی ویکسین لگوائیں۔

متحدہ عرب امارت کی وزارت صحت کے ایمونائزیشن سیکشن کی سربراہ ڈاکٹر لیلا  ال جاسمی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ملک بھرمیں موسمی زکام کے حوالے سے آگاہی مہم کا آغاز کر دیا گیا اور لوگ 28 ستبمر سے پرائمری مراکز صحت سے زکام کی ویکسین لگوا سکیں گے۔

یہ مہم جنوری 2021 تک جاری رہے گی۔ اس کا مقصد ہیلتھ ورکرز کو انفلوئنزا وائرس سے بچاو کے لیے بین الاقوامی میعارات سے آگاہ کرنا بھی ہے۔

زکام کی ویکسین کی افادیت کیا ہے؟

ماہرین صحت سے کا کہنا ہے اس ویکسین کو لگوانے سے زکام ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے اور اگر زکام ہو بھی جائے تو اس کی شدت کم رہتی ہے۔

مزید برآں، عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ زکام کی ویکسسین ہائی رسک افراد جیسا کہ ضعیف افردا، 6 ماہ سے 5 سال کی درمیانی عمر کے بچوں، حاملہ خواتین، موذی امراض میں مبتلا افراد اور ہیلتھ کیئر ورکرز کے لیے ضروری ہے۔

ڈاکٹر ال جاسمی کا کہنا تھا کہ” انفلوئنزا سانس لینے کی نالی کا ایک شدید انفیکشن ہے جو بہت جلد ایک فرد سے دوسرے تک منتقل ہو سکتا ہے۔ اور یہ بیماری معمولی سے شدید ہو سکتی ہے اور بعض اوقات موت کا سبب بن سکتی ہے”۔

انکا مزید کہنا تھا کہ ” گزشتہ 60 سالوں سے زکام کی ویکسین بہت کامیابی کے ساتھ استعمال کی جارہی ہے۔ اور اس کے باعث پچیدگیوں سے بچنے میں بہت کامیابی ملی ہے”۔

ڈاکٹر ال جاسمی نے نشاندہی کی ہے اس ویکسین کو ہر سال اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے تاکہ وائرس کے خلاف تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

حالیہ مہم کیوں شروع کی گئی ہے؟

وزارت صحت کے ہیلتھ اسسٹنٹ سیکٹر کے انڈر سیکرٹری ڈاکٹر حیسن عبدالرحمن ال رند کا کہنا تھا کہ ” وزارت صحت اس مہم کو ہیلتھ سسٹم کی ڈویلپمنٹ، متعدی بیماریوں کی نگرانی  کے نظام کو مظبوط بنانے اور تمام گروپس کو فلو ویکسین لگانے کے عزم کے طور پر شروع کرنے کی خواہاں ہے”۔

انکا کا کہنا تھا کہ یہ مہم کورنا کے خلاف احتیاطی تدابیر پر سختی کے ساتھ عمل کرتے ہوئے کی جائے گی۔

وزارت صحت کے پریونٹو میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نادا ال مرزوقی کا کہنا تھا کہ اس مہم کے دوران ہیلتھ ورکرز کو انفلوائنز انفکیشن کی روک تھام کے لیے لیکچرز اور ٹریننگ بھی دی جائے گی۔

انکا مزید کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے دوران زکام سے بچنا اور اس کی ویکسین لگوانا انتہائی ضروری ہوگیا ہے۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button