متحدہ عرب امارات

مادورو کی گرفتاری پر یو اے ای میں مقیم وینزویلا کے شہری: خوشی، جوش اور الجھن

خلیج اردو
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی امریکی افواج کے ہاتھوں گرفتاری کی اطلاعات نے یو اے ای میں مقیم وینزویلا کے شہریوں میں ملے جلے ردعمل پیدا کر دیے ہیں۔ جہاں بعض افراد نے خوشی اور جوش کا اظہار کیا، وہیں کچھ شہری محتاط، غصے اور خوفزدہ نظر آئے اور سیاسی عدم استحکام، غیر ملکی مداخلت اور بحران زدہ ملک کے غیر یقینی مستقبل پر تشویش کا اظہار کیا۔

یو اے ای میں مقیم وینزویلا کے سابق فوجی افسر، 50 سالہ ایلونسو مورالیز نے بتایا کہ وہ اس خبر کو دیکھ کر یقین نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا، “ہم پچیس سال سے انتظار کر رہے تھے۔ میں اپنے خاندان کا آخری فرد تھا جو ملک چھوڑ کر آیا۔” مورالیز نے بتایا کہ مادورو کے دور میں حکومت نے اپوزیشن کے خاندان کے افراد پر سخت اقدامات کیے۔ وہ خود بھی “کم خطرہ” کی فہرست میں شامل تھے کیونکہ حکومت یہ ثابت نہیں کر سکی کہ وہ نظام کے خلاف ہیں۔

مورالیز نے کہا کہ سیاسی خوفزدگی سے بچنے کے لیے انہوں نے وینزویلا چھوڑا، پہلے سعودی عرب گئے اور بعد ازاں 2018 میں متحدہ عرب امارات منتقل ہوئے۔ مستقبل کے بارے میں ان کا کہنا تھا، “کام بہت ہے، ممکن ہے مگر آسان نہیں۔ ہمارا ملک وسائل اور آلات رکھتا ہے۔”

موسیقی کی استاد گلین اینجل کریرا نے بتایا کہ مادورو کی گرفتاری کی خبر سن کر وہ خوشی اور حیرت سے روتی رہیں۔ انہوں نے کہا، “میں بہت خوش ہوں، پرجوش اور الجھن میں بھی ہوں۔ یہ نظام کے خاتمے اور انصاف کے لیے پہلا قدم ہے۔” کریرا 2017 میں وینزویلا چھوڑ کر یو اے ای آ گئی تھیں اور انہوں نے مادورو کے زوال کے دن کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔

تاہم، ہر وینزویلا شہری نے اس خبر کا خیرمقدم نہیں کیا۔ حکومت کے حامیوں نے غیر ملکی مداخلت کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ کچھ شہری خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ مادورو کی گرفتاری ملک میں مزید انتشار پیدا کر سکتی ہے۔ ماہرین نے سابقہ رپورٹس میں کہا کہ ایک موجودہ صدر کی گرفتاری امریکی خارجہ پالیسی میں ایک تاریخی مثال ہے، جو بین الاقوامی قانونی اصولوں کو چیلنج کر سکتی ہے اور وینزویلا اور خطے کی سیاست میں عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button