متحدہ عرب امارات

دبئی میں ٹریفک مسائل کے خاتمے کی جانب بڑا قدم، دبئی لوپ اور گلائیڈ ویز کے جدید سفری منصوبے

خلیج اردو
دبئی میں ٹریفک دباؤ کم کرنے اور شہری رابطہ بہتر بنانے کے لیے دو نئے جدید ٹرانسپورٹ منصوبوں کا اعلان کردیا گیا ہے۔ ان منصوبوں میں دبئی لوپ اور گلائیڈ ویز شامل ہیں، جن کا مقصد سفر کے وقت میں نمایاں کمی لانا ہے۔

دبئی لوپ ایک جدید زیرِ زمین سفری نظام ہوگا جو ’’ٹنلز میں گاڑیوں‘‘ کے تصور پر مبنی ہے۔ اس منصوبے کے تحت 3.6 میٹر قطر کی یک طرفہ سرنگیں بنائی جائیں گی، جن میں بیک وقت تقریباً 100 گاڑیاں چل سکیں گی۔

دبئی لوپ کے پہلے مرحلے میں دبئی مال کو دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر سے ملایا جائے گا، جس میں چار اسٹیشن ہوں گے۔ اس روٹ پر سفر کا دورانیہ 20 منٹ سے کم ہو کر صرف 3 منٹ رہ جائے گا، جبکہ روزانہ 13 ہزار مسافروں کو سہولت ملے گی۔

مستقبل میں دبئی لوپ نیٹ ورک کو 24 کلومیٹر تک توسیع دی جائے گی، جس میں 19 اسٹیشن شامل ہوں گے اور یہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر، فنانشل ڈسٹرکٹ اور بزنس بے کو آپس میں جوڑے گا۔ منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 2.5 ارب درہم لگایا گیا ہے۔

دوسرا منصوبہ گلائیڈ ویز ہے، جس کے تحت خودکار الیکٹرک پوڈز چلائے جائیں گے۔ یہ پوڈز بائیک لین کے برابر مخصوص راستوں پر 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کریں گے اور ہر پوڈ میں 4 سے 6 افراد سوار ہوسکیں گے۔

گلائیڈ ویز منصوبہ ابتدائی طور پر بلیو واٹرز آئی لینڈ، ام سقیم، القوز اور دبئی فیسٹیول سٹی میں متعارف کرایا جائے گا، جہاں یہ میٹرو اسٹیشنز کو قریبی علاقوں سے جوڑنے میں مدد دے گا۔ ایک سمت میں یہ نظام فی گھنٹہ 10 ہزار سے زائد مسافروں کو منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

حکام کے مطابق یہ دونوں منصوبے موجودہ ٹریفک سے آزاد ہوں گے اور بغیر اضافی ریل یا تاروں کے سڑکوں کے ساتھ یا زیرِ زمین نصب کیے جاسکیں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق دبئی لوپ اور گلائیڈ ویز جیسے منصوبے دبئی کو اسمارٹ اور پائیدار ٹرانسپورٹ کے عالمی مراکز میں شامل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button